www.ishraaq.net

امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: اے لوگو! جان لو کہ دنیا ایک ایسا گھر ھے کہ جو فنا ھونے والااور زوال پذیر ھے۔ سوانح حیات امام حسین علیہ السلام

 

۱۔ امام حسین (ع) کی زندگی

۲۔ امام حسین (ع) اور پیغمبر اسلام (ص)

۳۔ امام حسین (ع) اپنے والد محترم کے ساتھ

۴۔ امام حسین (ع) اپنے برادر بزرگ کے ساتھ

۵۔ امام حسین (ع) زمانہٴ معاویہ میں

۶۔ قیام حسینی

۷۔ اخلاق اور کردار امام حسین (ع)

 

۱۔زندگی امام حسین علیہ السلام

 حضرت علی (ع) کے فرزند ارجمند (۱)ھجرت کے چوتھے سال تیسری شعبان کو خانہٴ وحی و عصمت میں تشریف لائے، جیسے ھی ولادت کی خبر حضور سرورکائنات کو ملی آپ حضرت علی (ع) و فاطمہ (ع) کے گھر  تشریف لائے اور بچہ کو طلب فرمایا، اسماء (۲)بچہ کو ایک سفید کپڑے میں لپیٹ کرحضور کی خدمت میں لائیں، حضرت نے دائیں کان میں اذان اور بائیں(۳) کان میں اقامت کھی ۔

ولادت کے ساتویں دن امین وحی حضرت جبرئیل حضور کی خدمت میں حاضر ھوئے اور درود و سلام کے بعد عرض کی اس بچے کا نام ھارون کے چھوٹے بیٹے کے نام پر شبیر رکھیے(۴) کہ جس کا معنی عربی میں حسین ھیں(۵)، چونکہ علی(ع) آپ کے نزدیک ایسے ھی ھیں جیسے ھارون موسیٰ بن عمران کے نزدیک تھے مگر یہ کہ آپ کے بعد کوئی نبی نھیں ھے ۔

اس طرح جناب فاطمہ (ع) کے دوسرے فرزند کا نام حسین خدا وند عالم کی جانب سے انتخاب ھوا، ولادت کے ساتویں دن عقیقہ(۶) کی سنت ادا کی گئی اور ایک بکری ذبح کی گئی جناب فاطمہ(س) نے بیٹے کا سر ترشوا کر اسکے برابر (۷)چاندی صدقہ میں دی۔

 

 ۲۔ امام حسین (ع) ھمراہ پیغمبر اسلام (ص)

 ولادت امام حسین (ع) سے لیکر وفات پیغمبر اسلام (ص) تک جو تقریباً ۶/ سال اور چند ماہ کے عرصہ پر مشتمل ھے ، حضور کی جو محبت اور چاھت امام حسین (ع) کے لئے تھی، اس کو سب نے غور سے دیکھا تھا جس سے حضرت کے مقام و منزلت کا اندازہ لگایا جا سکتا ھے ۔

حضرت سلمان فارسی کھتے ھیں :

میں نے دیکھا کہ حضرت اپنے فرزند ارجمند حسین کو اپنی آغوش میں بٹھاکر ان کا بوسہ لے رھے ھیں اور فرماتے جا رھے ھیں :

تم اھل شرف و فضیلت ھو ، اھل شرف و فضیلت کے فرزند ھو ،اھل شرف و فضیلت  کے باپ ھو ، تم امام ھو، امام کے فرزند ھو اور ائمہ کے باپ ھو جن کی تعداد نو ھے اور ان میں کا آخری مھدی ھے ۔ (۸)

جب حضرت سے سوال ھوا کہ اپنے اھل بیت میں سب سے زیادہ کس کو چاھتے ھیں تو آپ حضرت امام حسن (ع)اور حسین(ع) کو سینے سے لگا کر چومتے اور ان کا تعارف کراتے۔

ابو ھریرہ جس کا شمار معاویہ کے نوکروں اور دشمنان اھل بیت (ع)میں ھوتا ھے، اس حقیقت کا اعتراف کرتا ھے کہ رسول خدا (ص)کو دیکھا کہ اپنے دوش پر امام حسن(ع)اور امام حسین(ع) کو سوار کئے ھماری جانب چلے آرھے ھیں، جب ھمارے نزدیک پھنچے تو یوں فرمایا : جس نے بھی میرے ان دو فرزندوں سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی جس نے ان سے دشمنی کی گویا اس نے مجھ سے دشمنی کی، پیغمبر اسلام (ص)اور امام حسین(ع) کے درمیان انس اور محبت کی گھرائی اور سچائی کو جاننے کے لئے شاید پیغمبر اسلام (ص) کا یہ ایک جملہ کافی ھو گا ” حسین مجھ سے ھے اور میں حسین سے ھوں “۔

 

۳۔ امام حسین (ع) اپنے پدر بزگوار کے ساتھ

 امام حسین (ع) کے ابتدائی چھ سال پیغمبر اسلام (ص)کی تربیت اور نگرانی میں گزرے، نانا کی وفات کے بعد سے تیس سال پدر بزرگوار کی تربیت میں زندگی گزاری وہ باپ کہ جس نے ھمیشہ منصفانہ فیصلہ کیا، جس نے طھارت و بندگی پروردگار میں زندگی گزاری وہ جو ھمیشہ خدا کی رضایت کے تابع رھا ، وہ جس نے خدا کے علاوہ کسی کو اپنا معبود نہ جانا اور اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کی، وہ باپ جس کو اپنے چند سالہ دور حکومت میں بھی سکون نہ ملا، اسی طرح جب لوگوں نے خلافت غصب کر لی تو اس کو بجز آزار و اذیت کچھ نہ ملا، ان تمام مراحل میں امام حسین (ع) دل و جان سے اپنے پدر بزرگوار کے فرمان کی اطاعت کرتے رھے اور جب حضرت علی (ع) کو چند سال کی ظاھری حکومت ملی تو اس زمانے میں بھی اپنے پدر کے شانہ بشانہ ایک سپاھی کی طرح اسلامی اھداف کو پورا کیا اور احکام الٰھی کو نافذ کرنے کیلئے کو شاں رھے، جنگ جمل ، صفین ، نھروان میں بھی شریک رھے اور ان تمام مراحل میں اپنے والد کی حمایت کرتے رھے، یھاں تک کہ غاصبین خلافت پر اعتراضات بھی کرتے تھے، خلیفہ دوم کے زمانے میں آپ مسجد نبوی میں داخل ھوئے منبر پر عمر کو دیکھ کر فرمایا :” میرے والد کے منبر سے اتر جاوٴ۔۔۔“

 

۴۔امام حسین (ع) اپنے  برادر بزرگوار کے ھمراہ

 حضرت علی (ع) کی شھادت کے بعد فرمان رسول خدا (ص) اور وصیت امیرا لمومنین (ع) کے تحت امامت و رھبری کی ذمہ داری امام حسن (ع) کے دوش مبارک پر آئی اور سب پر واجب ھو گیا کہ امام حسن (ع)کی اطاعت اور پیروی کریں، امام حسین (ع) جو خانہ ٴ وحی اور آغوش عصمت کے پروردہ تھے، فکر و عمل میں بھائی کے ھمراہ رھے، یھاں تک کہ بر بنائے مصلحت اسلام و مسلمین امام حسن (ع) معاویہ کے ساتھ صلح کرنے پر مجبور ھوئے اور کافی مسائل و مشکلات سے روبرو ھوئے تو امام حسین (ع) بھی اپنے بھائی کی ان تمام مصیبتوں میں شامل رھے، معاویہ جو امام حسن (ع) اور ان کے پدر بزرگوار پر سب و شتم کرتا تھا آپ(ع) دفاع کے لئے اٹھ کھڑے ھوتے اور اس ( معاویہ ) کو دندان شکن جواب دیتے لیکن امام حسن (ع) آپ کو روک دیتے اور خود اس کا ایسا جواب دیتے کہ معاویہ میں بولنے کی تاب نہ رہ جاتی۔

 

۵۔امام حسین (ع) معاویہ کے زمانے میں

 جب امام حسن (ع) دنیا سے تشریف لے گئے تو حضرت امام حسین (ع)، بنا بر قول رسول خدا (ص) اور وصیت امیر المومنین (ع) اپنے بھائی کے قائم مقام بنے اور قیادت و رھبری کی ذمہ داری اپنے دوش مبارک پر لے لی۔ آپ دیکھ رھے تھے کہ معاویہ ناحق تخت خلافت پر بیٹھا اساس اسلام اور قوانین اسلامی کی پامالی کر رھا ھے، اس کی نا اھل حکومت آپ کو آزار و اذیت پھنچا رھی تھی لیکن جیسے حالات امام حسن(ع) کے زمانے میں تھے ویسے ھی حالات آپ کے زمانے میں بھی تھے لھذا اس کو حکومت سے بر کنار نہ کر سکے  آپ جانتے تھے کہ اگر میں ان حالات میں کھل کر اس کے سامنے آگیا تو وہ مجھے قتل کر دے گا اور میرا قتل مفید بھی ثابت نہ ھو گا لھذا بادلِ نا خواستہ صبر و ضبط کا جام پیتے رھے ۔

اس بنا پر جب تک معاویہ زندہ تھا کھل کر اس کے سامنے نھیں آئے البتہ معاویہ کے اعمال اور رویہ پر اکثر و بیشتر تنقید اور اعتراض کرتے رھے اور لوگوں کو آئندہ کے لئے تیار کر تے رھے اور جب معاویہ اپنے بیٹے یزید کو اپنا ولی عھد بناکر لوگوں سے بیعت لینے لگا تو امام حسین (ع) نے شدت سے اس کی مخالفت شروع کر دی، نہ تو یزید کی ولی عھدی قبول کی اور نہ ھی اس کی بیعت کی، کبھی کبھی سخت لھجے میں معاویہ سے گفتگو کرتے اور اس کو خط تحریر کرتے۔ معاویہ نے یزید کی بیعت کے لئے ان سے اصرار نھیں کیا

 

۶۔ قیام حسینی

 معاویہ کے مرنے کے بعد یزید تخت حکومت پر آیا اور خود کو امیر المومنین کھلانے لگا، اس اپنی نا حق اور ظالمانہ حکومت کو استحکام بخشنے کے لئے کچھ بر جستہ ھستیوں کو خط لکھ کر اپنی بیعت کا مطالبہ کیا  حاکم مدینہ کو خط لکھا کہ امام حسین (ع) سے بیعت لی جائے اگر مخالفت کریں تو ان کو قتل کر دیا جائے۔ حاکم مدینہ نے یہ خبر امام حسین (ع) کو دیتے ھوئے بیعت کا مطالبہ کیا تو آپ نے یوں فرمایا :” ان للہ و انا الیہ راجعون و علی الاسلام السّلام اذا قد بلیت الامة براع ٍ مثل یزید ۔۔۔۔“

اگر یزید جیسا انسان ( جو شرابی ، جواڑی ، بے ایمان ، نا پاک ۔۔۔۔) مسند خلافت پر پھنچ جائے تو اسلام پر فاتحہ پڑ ھ دینی چاھیے ( چونکہ ایسے انسان بنام اسلام، اسلام کی قوت کا غلط استعمال کرکے اسلام کو مٹا دیتے ھیں۔)

 امام حسین (ع) جانتے تھے کہ اس حالت میں اگر مدینہ میں رہ گئے تو قتل کر دئے جائیں گے لھذا راتوں رات مدینہ سے مکہ کی طرف چل پڑے، آپ کا مکہ آنا اور یزید کی بیعت سے انکار کی بات،مکہ اور مدینہ کے لوگوں میں پھیل گئی، یہ خبر کوفہ بھی پھنچی۔ اھل کوفہ نے آ پ کو کوفہ آنے کی دعوت دی آپ نے اپنے چچا زاد بھائی جناب مسلم کو کوفہ بھیجا تاکہ وھاں کے حالات اور لوگوں کے افکار کو نزدیک سے دیکھ کر ان کو مطلع کریں جناب مسلم کو فہ پھنچے، آپ کا بے مثال استقبال کیا گیا اور ھزاروں لوگوں نے نائب امام کی حیثیت سے آپ کے ھاتھوں پر بیعت کی ،جناب مسلم نے امام حسین (ع) کو خط لکھ کر فوراً کوفہ آنے کی فرمائش کی، اگر چہ امام حسین (ع) کوفہ کے لوگوں کو خوب جانتے تھے، انکی بے وفائی اوربے دینی کا اپنے پدر و برادر کے زمانے میں مشاھدہ کر چکے تھے لھذا جانتے تھے کہ ان کے وعدوں اور ان کی جناب مسلم کے ھاتھوں پر کی گئی بیعت پر اعتماد نھیں کیا جا سکتا لیکن حجت تمام کرنے کے لئے کوفہ جانے کا ارادہ کرلیا ۔

 جب تمام لوگ منیٰ جانے کی تیاری اور مکہ پھنچنے کی کوشش کر رھے تھے آپ نے عراق کا ارادہ کر کے روشن کر دیا کہ فرزند رسول(ع) نے یزید کی بیعت سے انکار کرتے ھوئے اسکے خلاف قیام کر دیا ھے ۔

یزید کو جب جناب مسلم کے کوفہ آنے اور لوگوں کی انکے ھاتھوں پر بیعت کرنے کی خبر ملی تو اس نے ابن زیاد ( جو یزید کا قریبی دوست اور اھل بیت(ع) کا سخت دشمن تھا )کو کو فہ بھیجا ۔

ابن زیاد نے اھل کوفہ کی بے ایمانی اور بزدلی سے فائدہ اٹھاتے ھوئے ان کے دل میں رعب و وحشت ڈال کر لوگوں کو جناب مسلم سے دور کر دیا اور جب جناب مسلم تنھا رہ گئے تو ان سے جنگ کی، جناب مسلم شجاعت و بھادری کے ساتھ جنگ کرتے ھوئے درجہٴ شھادت پر فائز ھوگئے، اسکے بعد ابن زیاد نے بے ایمان اور بے وفا اھل کوفہ کو امام حسین (ع) کی مخالفت اور ان سے نبرد آزمائی پر تیار کیا، آخر کار امام کو بلانے والوں میں سے ھی ایک جماعت مسلح ھوکر آپ کی آمد کا انتظار کرنے لگی تاکہ آتے ھی آپ کو قتل کر دے ۔

امام حسین (ع) مدینہ سے کوفہ پھنچنے تک ھر گام پر کبھی اشاروں میں تو کبھی علی الاعلان اپنے مقصد و ظاھر کرتے رھے: ”میرا مقصد یزید کی اسلام مخالف حکومت کو بے نقاب اور رسوا کرنا ، لوگوں کو امر و نھی کرنا ، ظلم و ستم کا مقابلہ کرنااور قرآن و سنت کو زندہ کرنے کے علاوہ کچھ نھیں ھے۔“

یہ وہ ذمہ داری تھی جو خدا نے ھر ایک پر فرض کی تھی اب چاھے اس راہ میں قتل کر دئے جائیں، عورتیں اور بچے اسیر ھوجائیں سب کچھ منظور ھے ۔

اس شھادت کی خبر رسول خدا (ص)، امیر المومنین(ع) اور امام حسن (ع) نے پھلے ھی دیدی تھی اور خود بھی امام (ع)علم امامت سے جانتے تھے کہ میرے سفر کا اختتام میری شھادت پر ھو گا لیکن آپ ان میں سے نھیں تھے جو حکم خدا سے فرار اور گریز کرتے، آپ کو اپنی جان و مال سے زیادہ خدا کا فرمان پیارا تھا۔ آپ ان میں سے تھے جو مصیبت کو کرامت اور شھادت کو سعادت جانتے ھیں ۔

آپ کی شھادت کی خبر گوشہ و کنار میں پھیل گئی چونکہ لوگ پھلے ھی امام حسین (ع) کی شھادت اور کیفیت شھادت کی خبر رسول خدا(ص)، امیر المومنین اور امام حسن علیھم السلام کی زبانی سن چکے تھے ، آپ خود تمام راستے یھی فرماتے جا رھے تھے ”جو بھی چاھتا ھے میرے ساتھ جان دیکر لقائے پروردگار کا شرف حاصل کرے وہ میرے ساتھ آئے، اسی لئے بعض چاھنے والوں نے آپ کو اس سفر سے روکنے کی کوشش بھی کی چونکہ آپ کو نہ جانے کا مشورہ دینے والے شاید اس بات سے نا واقف تھے کہ امام بر حق اور رسول خدا (ص) کا جانشین اپنا فریضہ خوب جانتا ھے لھذا آپ نے اپنی اور اپنے اصحاب کی شھادت پیش کر کے ثابت کر دیا کہ یزید ملعون اور بنی امیہ رسول (ص) کے جانشین نھیں ھیں اور درحقیقت اسلام بنی امیہ اور بنی امیہ اسلام سے جدا ھیں ۔

یقینا اگر امام حسین (ع) کی شھادت نہ ھوتی تو لوگ یزید کو پیغمبر اسلام (ص) کا خلیفہ مان لیتے اور اس کے غیر شرعی اعمال و رفتار ان کے لئے حجت بن جاتے اور لوگ اسلام سے دور ھونے لگتے۔

امام (ع)کی عترت اطھار اسیر ھوئی، اس کے باوجود امام (ع)کی شھادت کے مقصد کو آپ کے حرم لوگوں تک پھنچاتے رھے،  ھم نے پڑھا اور سنا ھے شھروں میں بازاروں میں ، مسجدوں اور درباروں میں وہ مقدس افراد ھر جگہ لوگوں تک پیغام پھنچاتے رھے اور بنی امیہ کے چھرے سے نقاب اٹھاتے رھے اور انھوں نے ثابت کر دیا کہ یزید جیسا عیّاش اور بد کار خلیفہ نھیں ھو سکتا، یزید جس منصب پر بیٹھا ھے یہ اس کی جگہ نھیں ھے، اسیروں کی آوازوں نے مقصد حسینی کی تکمیل کی لھذا شعور بیدار ھوئے اور یزید کا نام دنیا کی ھر برائی کے مترادف ھو گیا اس طرح یزید کے منصوبوں پر پانی پھر گیا، اس روز شھادت سے آج تک ھر چاھنے والا، شیعہ اور ھر وہ شخص جس میں شرافت و کرامت زندہ ھے اس دن کو سیاہ لباس کے ساتھ روز عزاداری جانتا ھے اور ان سے اپنی محبت اور لگاؤ کا اظھار ان پر گریہ و زاری سے کرتا ھے، دیگر ائمہ معصومین (ع)نے بھی اس واقعہ کربلا کو زندہ رکھنے کی خاص تاکیدفرمائی ھے اور خود بھی اس سلسلہ میں کوشا ں رھے ھیں آپ حضرات خود امام حسین (ع) کی قبر مطھر کی زیارت کو جاتے تھے، آپ کی عزا کا اھتمام کرتے اس سلسلہ میں معصومین (ع) کے بھت سے اقوال وارد ھوئے ھیں ۔

 ۱۔ ابو عمارہ کھتے ھیں : ایک دن میں امام صادق (ع) کی خدمت میں حاضر ھوا، آپ نے مجھ سے فرمایا: امام حسین (ع) کی شان میں اشعار پڑھو جیسے ھی میں نے شعر پڑھنا شروع کیا امام (ع)رونے لگے، میں شعر پڑھتا جاتا تھا امام (ع)روتے جاتے تھے یھاں تک کہ رونے کی آواز گھر سے باھر جانے لگی، جب میں اشعار پڑھ چکا تو آپ نے گریہ کی فضیلت ، مرثیہ کے ثواب اور مصیبت امام حسین (ع) پر لوگوں کو رلانے کی جزا کو بیان کیا، اسی طرح آپ فرماتے ھیں : رونا اور بے حال ھونا بجز مصیبت امام حسین (ع)کے مناسب نھیں ھے، مصیبت امام حسین (ع) میں رونا اجر و ثواب کا باعث ھے ۔

۲۔ امام باقر (ع) اپنے ایک صحابی محمد بن سلم سے فرماتے ھیں: ”ھمارے شیعوں سے کھہ دو کہ قبر امام حسین (ع) کی زیارت کو جایا کریں کیونکہ ھر وہ شخص جس کو ھماری معرفت حاصل ھے اس پر یہ عمل لازم ھے ۔

۳۔ امام صادق (ع) فرماتے ھیں :” ان زیارة الحسین علیہ السلام افضل ما یکون من الأعمال “ ۔

بیشک زیارت امام حسین (ع) ھر عمل سے بھتر ھے اور اس کی بھت زیادہ فضیلت ھے، کیونکہ یہ ایک بڑی درس گاہ ھے جھاں سے ایمان و عمل کا درس ملتا ھے، روح کو پاکیزگی اور فدا کاری کا جذبہ ملتا ھے ۔

بیشک زیارت قبر مطھر امام حسین (ع) اور ان پر گریہ و عزاداری اجر و ثواب اور شرف کا باعث ھے لیکن اس کا مطلب یہ نھیں کہ انسان اس کے علاوہ دین کے دیگر ارکان و قوانین اور اھداف کو بھول جائے کیونکہ مقصد صرف یہ نھیں ھے بلکہ ضروری ھے کہ ھم در سگاہ حسینی سے انسانیت کا درس حاصل کریں اور دل کو معصیت پروردگار سے خالی کریں لیکن اگر صرف ظاھر میں گریہ کرتے رھے تو گویا ھم مقصد حسینی کو بھلا بیٹھے ھیں ۔

 

امام حسین (ع) کا اخلاق اور کردار

 اگر ھم امام حسین (ع) کی ۵۶/ سالہ زندگی پر ایک اجمالی نظر ڈالیں تو معلوم ھو گاکہ آپ کی پوری زندگی بندگی پروردگاراور نانا کے دین کی نشر و اشاعت اور عمیق مطالب کے بیان کرنے میں گزری ھے۔

یھاں پر اس سلسلہ میں چند روایت پیش کی جارھی ھیں:

آپ نماز، راز و نیاز، تلاوت قرآن اور دعا و استغفار میں بھت زیادہ دلچسپی رکھتے تھے، کبھی کبھی تو سیکڑوں رکعت نما ز پڑھ جاتے تھے کبھی بھی راز و نیاز سے غافل نھیں رھتے تھے، واقعہ کربلا میں ھم پڑھتے ھیں کہ آپ نے دشمنوں سے ایک رات کی مھلت مانگی تھی تاکہ تنھا ئی میں ایک بار پھر اپنے پروردگار کے ساتھ مناجات کرسکیں آپ خود فرماتے ھیں: خدا جانتا ھے کہ میں نماز و تلاوت کلام پاک دعا و استغفار کو کتنا پسند کرتا ھوں ۔

آپ نے کئی بار پا پیادہ خانہ خدا جا کر حج کے مراسم ادا کئے، ابن کثیر اسد الغابہ میں لکھتے ھیں:

” کان الحسین رضی اللہ عنہ فاضلاً کثیر الصوم و الصلاة و الحج و الصدقہ و افعال الخیر جمیعھا“ امام حسین (ع) بھت زیادہ نماز پڑھتے ، روزے رکھتے ،حج کرتے ، صدقہ دیتے اور تمام اعمال خیر انجام دیتے تھے۔

امام حسین (ع) کی شخصیت اتنی بلند اور باعظمت تھی کہ جب آپ اپنے بھائی کے ھمراہ پا پیادہ حج کے لئے نکلتے تو دنیائے اسلام کی بر جستہ شخصیتیں بھی آپ کے احترام میں پا پیادہ ھو جاتیں، لوگوں کے اس قدر احترام کرنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ لوگوں سے ھٹ کر زندگی نھیں گزارتے تھے بلکہ ان کے ھم و غم میں شریک رھتے اور معاشرہ جس مسرت یا مصیبت سے دوچار ھوتا اس میں آپ بھی شریک رھتے۔ اسی لئے لوگ آپ (ع) کو اپنا محسن و مدد گار جانتے ور نہ تو ان کے پاس محل تھا نہ ھی غلام اور خدام تھے بادشاھان رھتے ھیں، آپ نے کبھی اپنے دروازہ کو لوگوں پر بند نھیں کیا اور حرم رسول خدا (ص) سے کسی کو دور نھیں کیا ۔

یھاں ایک اور روایت پیش کی جا رھی ھے جس میں آپ کے اجتماعی اخلاق کا نمونہ ذکر ھے : ایک دن امام(ع) کسی ایسے راستے سے گزر رھے تھے کہ جھاں چند فقیر بیٹھے خشک روٹی کھا رھے تھے ان لوگوں کی امام (ع) پر نظر پڑی امام (ع) کو بلایا امام (ع) نے انکی دعوت قبول کر لی اور ان کے پاس بیٹھ کر انکے ساتھ خشک روٹیاں کھانے لگے، اسکے بعد فرمایا :” ان اللہ لا یحب المتکبر“ خدا متکبر کو پسند نھیں کرتا “ اور ان لوگوں سے فرمایا: میں نے تمھاری دعوت قبول کی تم بھی میری دعوت قبول کر لو، ان لوگوں  نے دعوت قبول کرلی اور حضرت کے ھمراہ حضرت کے گھر پر تشریف لائے حضرت نے گھر والوں کو حکم دیا کہ جو کچھ بھی گھر میں ھے ان کی ضیافت کے لئے حاضر کر دو امام نے ان کا پرجوش استقبال کر کے دنیا کو ایک درس عمل انکساری دیا،شعیب بن عبد اللہ خزاعی کھتے ھیں: امام(ع) کی شھادت کے بعد آپ کی پشت مبارک پر داغ دیکھنے کو ملے، جب امام زین العابدین (ع) سے اسکی علت معلوم کی گئی تو آپ نے فرمایا کہ میرے والد محترم راتوں کو غذا کی بوری اپنی پشت پر رکھ کر فقیر و مسکین ، یتیم اور بیواؤں میں تقسیم کرنے جاتے تھے یہ داغ ان بوریوں کے ھیں ۔

مظلوم اور ستم رسیدہ افراد سے حمایت کا بھترین نمونہ ”ارینب اور اسکے شوھر عبداللہ بن سلام “ کی داستان میں مشاھدہ کیا جا سکتا ھے جس کو یھاں پر خلاصةً ذکر کیا جا رھا ھے:

یزیدنے اپنی ولایت عھدی کے زمانے میں پیسے اور اقتدار کے ذریعے عیاشی و شھوت پرستی کے تمام سامان مثلاً کنیز ، رقاصہ وغیرہ۔ کوجمع کرلیاتھا یھاں تک کہ اس کی ناپاک نظر شوھر دار اور پاکیزہ عورت پر بھی رھتی تھی۔

معاویہ ( یزید کا باپ ) یزید کو اس عمل سے روکنے اور حدود الٰھی جاری کرنے کے بجائے جھوٹ و فریب کے ذریعہ اس کام کے لئے مقدمہ سازی کرتا تاکہ شوھر دار پاک و پاکیزہ عورتوں کو ان کے گھروں سے جدا کر کے یزید کے بستر پر لایا جا سکے، امام (ع) کو اس ارادے کی خبر ملی توآپ اس ناپاک ارادے کے مقابل آگئے اور معاویہ کے ناپاک ارادے پر پانی پھیر دیا اور قوانین اسلامی کو جاری کرتے ھوئے عورت کو اس کے شوھر عبد اللہ بن سلام کے گھر پھنچا دیا گیا اس طرح سے مسلمان گھرانے اور انکی ناموس کی جانب بڑھنے والے نا پاک ھاتھ کوروک دیا ۔ اس واقعہ نے جھاں خاندان علی(ع ) کے چھرہ کو پر نور کرکے لوگوں کے سامنے پیش کیا وھیں بنی امیہ کے قبیح چھرے کو ھمیشہ کے لئے بے نقاب کر دیا، یہ واقعہ آج بھی تاریخ کے دامن میں محفوظ ھے ۔

علائلی اپنی کتاب ” سمو المعنی “ میں لکھتے ھیں:

ھم کو تاریخ انسانیت میں ایسے افرادملے ھیں کہ جن میں سے ھر ایک کسی نہ کسی مقام یاصفت میں کمال رکھتا ھے ، کوئی میدان شجاعت میں تو کوئی میدان زھد میں ، کوئی میدان سخاوت میں توکوئی میدان علم میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن امام حسین (ع) اس شخصیت و کردار کا نام ھے جس میں عظمت و کرامت  کے تمام پھلو پائے جاتے ھیں گویا وہ سارے کمالات و اوصاف کا مجموعہ ھیں۔

ظاھر سی بات ھے جو نبوت محمدی (ص)اور علی(ع) جیسی عظیم شخصیت (عدل و انصاف کا بے مثال نمونہ) کا وارث ھو، جس کی ماں حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا ھوں اس میں کسی فضیلت اور شرف کی کمی کا تصور بھی ممکن نھیں ھے ۔

درود و سلام ان شخصیتوں پر کہ جن کو ھم نے نمونۂ عمل جانا ھے ۔

امام حسین (ع) کی زندگی کے واقعات، ان کی شھادت، ان کا کردار، رفتار، گفتگو اور کمال کے دوسرے پھلو سب کے سب امام حسین (ع) کو تاریخ کی ایک بر جستہ شخصیت کا عنوان دیتے ھیں اور اسی طرح انسان کی رھبری اور اس کی سعادت مندی کا مرکز بھی جانتے ھیں۔

 

حوالے

۱۔ حضرت امام حسین (ع) کی ولادت کس سال اور ماہ میں ھوئی اس سلسلہ میں بھت سے اقوال ھیں لیکن ھم یھاں پر صرف مشھور قول کو ذکر کیا جا رھا ھے :ا علام الوریٰ طبرسی ص/ ۲۱۳ ۔

۲۔ احتمال ھے کہ اسماء سے مراد یزید بن مسکن انصاری کی بیٹی ھے۔ اعیان الشیعہ ج / ۱۱ ص / ۱۶۷

۳۔ امالی شیخ طوسی ج / ۱ ص ۳۷۷

۴۔ شبر، حسن کے وزن پر، شبیر حسین کے وزن پر اور مبشر محسن کے وزن پر جناب ھارون کے بیٹوں کے اسماء ھیں، پیغمبر اسلام(ص) نے اپنے تینوں بیٹوں حسن ، حسین ، محسن کے نام جناب ھارون کے تینوں بیٹوں کے نام پر رکھے تھے، تاج العروس ج / ۳ ص / ۳۸۹ ، یہ تینوں لفظ عبری زبان میں وھی معنی رکھتے ھیں جو عربی زبان میں لفظ حسن ، حسین و محسن کے ھیں:  لسان العرب ج / ۶۶ ص / ۶۰

۵۔ معانی الاخبار ص / ۵۷

۶۔ تعلیمات اسلامی میں عقیقہ کی بڑی تاکید کی گئی ھے جو فرزند کی سلامتی میں کافی موثر ھے ۔ وسائل الشیعہ ج / ۱۵ ص / ۱۴۳

۷۔ کافی ج / ۶ ص / ۳۳

۸۔ مقتل خوارزمی ج/۱ ص ۱۴۶ ، کمال الدین صدوق ص / ۱۵۲

۹۔ سنن ترمذی ج / ۵ ص / ۳۲۳

۱۰۔ ذخائر العقبیٰ ص/ ۱۲۲

۱۱۔ الاصابہ ج / ۱ ص / ۳۳۳

۱۲۔ سنن ترمذی: ج۵ ص۳۲۴، اس سلسلے میں اھل تسنن کے یھاں جو روایات نقل ھوئی ھیں، ان کو یھاں نقل کر دیا گیا ھے تاکہ یہ تحریر ان کے لئے بھی سند بن جائے۔

۱۳۔ الاصابہ: ج۱ ص۳۳۳

۱۴۔تذکرة الخواص ابن جوزی ص /۳۴ ، الاصابہ ج / ۱ ص ۳۳۳ ، جیسا کہ بعض مورخین لکھتے ھیں یہ واقعہ امام کی زندگی کے دسویں سال میں رونما ھوا ۔

۱۵۔ ارشاد مفید ص /۱۷۳

۱۶۔ رجال کشی ص / ۹۴ ، کشف الغمہ ج / ۲ ص / ۲۰۶

۱۷۔ مقتل خوارزمی ج / ۱ ص / ۱۸۴ ، لھوف ص /۲۰

۱۸۔ ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ کو لازم ھے کہ حجاج ”منیٰ “ جائیں اور اس زمانے میں بھی اس مستحب عمل پر عمل کیا جاتا تھا لیکن اس زمانہ میں اس دن براہ راست عرفات جانا مرسوم ھے ۔

۱۹۔ کامل الزیارات ص/ ۶۷ ، شیر الخوان ص / ۹

۲۰۔ لھوف ص/ ۵۳

۲۱۔کامل الزیارات ص /۱۰۵

۲۲۔کامل الزیارات ص /۱۰۱

۲۳۔کامل الزیارات ص /۱۲۱

۲۴۔کامل الزیارات ص /۱۴۷

۲۵۔ عقد الفرید ج/ ۳ ص / ۱۴۳

۲۶۔ ارشاد مفید ص / ۲۱۴

۲۷۔ مناقب ابن شھر آشوب ج / ۳ ص / ۲۲۴ ، اسد الغابہ ج / ۲ ص / ۲۰

۲۸۔ اسد الغابہ ج / ۲ ص / ۲۰

۲۹۔ ذکر الحسین ج/ ۱ ص / ۱۵۲ ، ریاض الجنان سے منقول

۳۰۔ سورہٴ نحل / ۲۲

۳۱۔ تفسیر عیاشی ج / ۲ ص / ۲۵۷

۳۲۔ مناقب ج / ۲ ص / ۲۲۲

۳۳۔ الامامة و السیاسة ج/ ۱ ص / ۲۵۳

۳۴۔ سمو المعنی ص / ۱۰۴

 

 

 

 

 

 

 

 

 حیات امام حسین(ع)

احادیث

مقالات

اشعار