بارہ اماموں کی زندگی پر اجمالی نظر

 

(۱)حضرت امام علی علیہ السلام

(۲)حضرت امام حسن علیہ السلام

(۳)حضرت امام حسین علیہ السلام

(۴)حضرت امام زین العابدین علیہ السلام

(۵)حضرت امام محمد باقر  علیہ السلام

(۶)حضرت امام جعفر صادق  علیہ السلام

(۷)حضرت امام موسیٰ کاظم  علیہ السلام

(۸)حضرت امام رضا علیہ السلام

(۹)حضرت امام محمد تقی علیہ السلام

(۱۰)حضرت امام علی النقی علیہ السلام

(۱۱)حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام

(۱۲)حضرت  امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف

 

 

 

 

پھلے امام

 

 امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام پھلے امام ھیں۔ آپ حضرت ابوطالب کے بیٹے ھیں جو بنی ھاشم خاندان کے معتبر فرد تھے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حقیقی چچا بھی تھے جنھوں نے پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ سلم کو اپنی زیر سرپرستی لے کر اپنے گھر میں جگہ دی اور ان کی دیکہ بھال اور پرورش کی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کے بعد وہ جب تک زندہ رھے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حمایت کرتے ھوئے عربی کفار اور خاص کر قریش کے حملوں اور شرارتوں سے آپ کو محفوظ رکھا۔

حضرت علی علیہ السلام(مشھور قول کے مطابق) آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت سے دس سال پھلے پیدا ھوئے اور ابھی چہ سال کے ھی تھے کہ شھر مکہ اور گرد و نواح میں سخت قحط پڑا۔ اس لئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خواھش کے مطابق آپ اپنے آبائی گھر سے اپنے چچا زاد بھائی رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر تشریف لے گئے اور آپ کی براہ راست سرپرستی میں پرورش پاتے رھے۔

چند سال بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے نبوت عطا ھوئی اور پھلی بار غار حرا میں آپ پر آسمانی وحی نازل ھوئی۔ آپ غار حرا سے شھر اور گھر کی طرف تشریف لے جا رھے تھے ۔حضرت علی علیہ السلام سے تمام واقعہ بیان کیا تو حضرت علی علیہ السلام فوراً آپ پر ایمان لے آئے۔

اس کے بعد پھر جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو جمع کرکے دین مبین کی دعوت دی تو اس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سب سے پھلے میری دعوت دین قبول کرے گا، وھی میرا خلیفہ، وصی اور وزیر ھوگا۔“جو شخص سب سے پھلے اپنی جگہ سے اٹھا اور بآواز بلند ایمان لایا وہ حضرت علی علیہ السلام ھی تھے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی ان کے ایمان کو قبول کر لیا اور ان کے بارے میں اپنے وعدے پورے کئے۔( ارشاد مفید ، ینابیع المودة )

اس لحاظ سے حضرت علی علیہ السلام پھلے شخص ھیں جنھوں نے اسلام قبول کیا اور پیغمبر اکرمصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لائے اور سب سے پھلے شخص ھیں جنھوں نے ھر گز خدائے وحدہ لاشریک کے علاوہ کسی اور کی پرستش اور عبادت نھیں کی۔

حضرت علی علیہ السلام ھمیشہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ساتھ رھتے تھے۔ یھاں تک کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ سے مدینہ ھجرت فرمائی۔ اس رات بھی جبکہ کفار مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مکان کو گھیرے میں لے رکھا تھا اور پختہ ارادہ کئے ھوئے تھے کہ رات کے آخری حصے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں داخل ھو کر آپ کو بستر مبارک پر ھیقتل کر دیں گے تو حضرت علی علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بستر مبارک پر سو گئے اور آپ گھر سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ھوگئے  پھرمولائے کائنات بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصیت کے مطابق لوگوں کی امانتیں ان کے مالکوں کو واپس لوٹا کر اپنی والدہ ماجدہ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی (حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا) اور گھر کی دوسری عورتوں کو ساتھ لے کر مدینہ روانہ ھوگئے۔

مدینہ منورہ میں بھی آپ ھمیشہ پیغمبر خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ رھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی بھی علی کو اپنے سے جدا نھیں کرتے تھے ۔ اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھاکی شادی آپ نے ان کے ساتھ کردی تھی اور ایسے ھی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان دوستی اور برادری کا معاھدہ کرتے تو حضرت علی کو اپنا بھائی کھہ کر پکارا کرتے تھے۔

حضرت علی علیہ السلام نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تمام جنگوں میں شرکت کی اور ھر جنگ میں حاضر رھے سوائے جنگ تبوک کے کیونکہ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو مدینہ میں اپنی جگہ قائم مقام کے طور پر مقرر فرمایا تھا۔ لھذا حضرت علی علیہ السلام نہ تو کبھی کسی جنگ میں پیچھے رھے اور نہ ھی کبھی کسی دشمن سے شکست کھائی اور نہ ھی کسی کام میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت کی۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ علی ھر گز حق سے جدا نھیں ھے، اور حق علی سے جدا نھیں ھے۔( ینابیع المودة ، غایت المرام )

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے وقت آپ کی عمرتیتیس سال کی تھی اگر چہ آپ تمام فضائل دینی میں سے سب سے بڑھ کر تھے اور تمام اصحاب کے درمیان ممتاز تھے پھربھی اس بھانے سے کہ آپ جوان ھیں اورپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں چونکہ جنگوں میں سب سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور سب سے آگے ھوتے تھے ، ان جنگوں میں خونریزی کی وجہ سے لوگ آپ کے مخالف اور دشمن ھو گئے تھے، آپ کو خلافت سے الگ کر دیا گیا اور اس طرح آپ عمومی کاموں میں حصہ نہ لے سکے اور گھر میں گوشہ نشین ھو کر اشخاص کی تربیت کرنے لگے۔ آپ پچیس سال تک یعنی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد تین خلفاء کی خلافت کے زمانے میں حکومت اور خلافت سے بالکل الگ تھلگ رھے تھے اور خلیفہ سوم کے قتل کے بعد عوام نے آپ کو خلیفہ منتخب کرکے آپ کے ھاتھ پر بیعت کی تھی۔

حضرت علی علیہ السلام اپنے زمانۂ خلافت میں جو تقریباً چار سال نو مھینے جاری رھا، پیغمبر اکرمصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت اور روش پر عمل پیرا رھے۔ آپ نے اپنی خلافت کو ایک تحریک یا انقلاب میں تبدیل کردیا اور اس کے ساتھ اصلاحات بھی شروع کیں لیکن چونکہ یہ اصلاحات بعض مفاد پرست لوگوں کے نقصان میں تھیں اس لئے بعض اصحاب پیغمبرنے جن میں آگے آگے حضرت عائشہ، طلحہ، زبیر، اور معاویہ تھے، خلیفہ سوم کے خون کو بھانہ بنا کر آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ھوگئے اور اس طرح انھوں نے شورش، بغاوت اور نافرمانی شروع کردی۔

حضرت علی علیہ السلام نے اس فتنے کو فرو کرنے کے لئے ام المومنین عائشہ ،طلحہ اورزبیر کے ساتھ بصرہ کے نزدیک جنگ کی جو -------”جنگ جمل“کے نام سے مشھورھے۔ایک دوسری جنگ معاویہ کے ساتھ عراق اورشام کی سرحد پر لڑی جس کو ”جنگِ صفین“کھا جاتا ھے ۔ یہ جنگ ڈیڑھ سال تک جاری رھی۔اسی طرح ایک اور جنگ نھروان کے علاقے میں خوارج کے ساتھ کی جس کو”جنگِ نھروان“کھتے ھیں۔آپ کے زمانۂ خلافت میں زیادہ وقت داخلی شورشوں اور فتنوں کو فرو کرنے میں گزرا۔تھوڑے ھی عرصے بعدماہ رمضان کی انیس تاریخ کی صبح ۴۰ئھجری مسجد کوفہ میں نماز پڑھتے ھوئے شکشت خوردہ خوارج ابن ملجم کے ھاتھوں آپ کے سر پرکاری زخم لگا اور آپ اکیس ماہ رمضان کی رات شھادت پاگئے۔

امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام ،تاریخی شھادت اوردوست و دشمن کے اعتراف و قول کے مطابق انسانی کمالات میں بالکل بے عیب تھے ۔ اسی طرح فضائل اسلامی میں بھی آپ پیغمبر اکرم کی تربیت کا بھترین نمونہ تھے۔

آپ کی شخصیت کے بارے میں جو بحثیں ھوئی ھیں اور ان کے متعلق سنّی اور شیعہ حضرات اور دنیا کے محققین نے جس قدر کتابیں لکھی ھیں، اتنی کسی اور شخصیت کے بارے میں نھیں لکھی گئی ھیں۔

حضرت علی علیہ السلام علم و دانش میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب اور تمام مسلمانوں میں سب سے دانا اور عقلمند تھے۔ آپ پھلے مسلمان ھیں جنھوں نے اپنے علمی بیانات میں آزاد عقلی استدلال اور دلیل و برھان کا راستہ کھولا اور معارف اسلامی میں فلسفیانہ بحث کو جاری کیانیز قرآن کریم کے باطن کے متعلق موضوعات کا بیان فرمایا۔ ان سب کے علاوہ قرآنی الفاظ کی حفاظت کے لئے آپ نے عربی زبان میں ایک گرامر بھی لکھی۔ آپ فن تقریر میں بھی اعلیٰ پایہ کی شخصیت رکھتے تھے۔ حضرت علی علیہ السلام شجاعت اور بھادری میں ضرب المثل تھے۔ ان تمام جنگوں میں جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں یا آپ کے بعد لڑی گئیں آپ نے سب میں شرکت کی اور کبھی خوف و وحشت اور اضطراب آپ کے نزدیک بھی پھٹکنے نہ پائے اگر چہ بارھا ان واقعات و حوادث سے جو جنگ احد، جنگ حنین، جنگ خیبر اور جنگ خندق میں پیش آئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب پر خوف و ھراس طاری ھو گیا تھا یا ان میں سے بعض منتشر اور فرار ھو گئے تھے لیکن اس کے با وجود آپ نے کبھی دشمن کو پیٹھ نھیں دکھائی اور کبھی ایسا بھی نھیں ھوا کہ کفار اور جنگی ناموروں میں سے کوئی آپ کے ساتھ مقابلہ کرے اور زندہ بچ جائے۔ اسی طرح بھادری اور شجاعت کے باوجود آپ(ع) کسی کمزور کو قتل نھیں کرتے تھے اور میدان جنگ سے بھاگ جانے والوں کا پیچھا نھیں کرتے تھے اور نہ ھی شبخون مارتے اور نہ ھی دشمن کے لئے پانی بند کرتے تھے۔

یہ امر تاریخی حقائق میں سے ھے کہ حضرت علی (ع) نے جنگ خیبر میں ایک زبردست حملہ کیا اور قلعے کے دروازے کے حلقے میں ھاتھ ڈال کر ایک جھٹکے کے ساتھ قلعے کا دروازہ اکھاڑ کر دور پھینک دیا تھا۔

اسی طرح فتح مکہ کے دن جب پیغمبر اکرم نے بتوں کو توڑ دینے کا حکم صادر فرمایا تھا تو بت ”ھبل“ جو مکہ کے سب سے بڑے بتوں میں شمار ھوتا تھا، بھت بھاری اور بڑے پتھر سے بنا ھوا تھا اور کعبے کے عین اوپر نصب کیا گیا تھا حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم سے آپ کے کندھوں پر پاؤں رکہ کر کعبہ کی چھت پر چڑھ کر بت ھبل کو وھاں سے اکھاڑ کر نیچے پھینک دیا تھا۔

حضرت علی علیہ السلام دینی تقویٰ اور خدا تعالیٰ کی عبادت میں بھی یگانہ روزگار تھے۔ جو لوگ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آکر حضرت علی (ع) کی تندی اور سختی کی شکایت کیا کرتے تھے، آپ ان سے فرماتے کہ علی (ع) کا گلہ نہ کرو اور نہ ھی ان کو ملامت اور سرزنش کرو کیونکہ وہ خدا کا عاشق ھے۔( مناقب آل ابی طالب ، مناقب خوارزمی )

ابودرداء صحابی نے ایک دفعہ حضرت علی (ع) کی لاش کو مدینے کے ایک نخلستان میں دیکھا کہ لکڑی کی طرح خشک پڑی ھوئی ھے ۔وہ آپ کے گھر اطلاع دینے آئے اور آپ کی بیوی (حضرت فاطمہ زھراسلام اللہ علیھا جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیاری بیٹی تھی) کہ ساتھ افسوس اور تعزیت کا اظھار کیا اور ان کے شوھر کی وفات کی خبر دی۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی نے فرمایا: میرے چچا کا بیٹا مرا نھیں ھے بلکہ عبادت کے دوران خوف خدا سے اس پر غشی کی حالت طاری ھو گئی ھے اور اکثر ایسا ھوتا رھتا ھے۔

حضرت علی علیہ السلام کی اپنے ماتحتوں کے ساتھ مھربانی، غریب اور بیکس لوگوں کے ساتھ ھمدردی، غریبوں اور فقیروں کے ساتھ کرم و سخاوت کی داستانیں زبان زد خاص و عام ھیں۔ آپ کے ھاتھ جو کچھ بھی آتا تھا اس کو خدا کی راہ میں غریبوں اور بیکس لوگوں کے درمیان تقسیم کردیتے تھے اورخود بڑی تنگی میں بھت ھی سادہ زندگی گزارتے تھے۔ آپ کھیتی باڑی کو بے حد پسند کرتے تھے لیکن جس زمین کو آباد کرتے اس کو غریبوں اور فقیروں کے لئے وقف کردیتے تھے۔ آپ کی وقف شدہ ملکیت کو ”وقف علی“ کھا جاتا ھے۔ آپ کے آخری زمانے میں اس وقف شدہ ملکیت سے اچھی خاصی آمدنی ھوتی تھی جو تقریباً چوبیس ھزار دینار (سونے کا سکہ) سالانہ تھی۔

 

فھرست     

دوسرے امام

 

امام حسن علیہ السلام اور آپ کے چھوٹے بھائی امام حسین علیہ السلام، امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے بیٹے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھاکے بطن مبارک سے تھے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بارھا فرمایا تھا کہ حسن و حسین علیھما السلام میرے بیٹے ھیں اسی وجہ سے حضرت علی علیہ السلام اپنے تمام بیٹوں سے فرمایا کرتے تھے: تم میرے بیٹے ھو اور حسن و حسین علیھما السلام رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیٹے ھیں۔( مناقب ابن شھر آشوب ، ذخائر العقبی)

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی ولادت   ۳ھء مدینہ میں ھوئی تھی۔ انھوں نے سات سال اور کچھ مھینے تک اپنے نانا (رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کا زمانہ دیکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آغوش محبت میں پرورش پائی۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد جو حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کی وفات سے تین یا چہ مھینے پھلے ھوئی، آپ اپنے والد ماجد کے زیر تربیت آگئے تھے۔

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اپنے والد گرامی کی شھادت کے بعد خدا کے حکم اور حضرت علی علیہ السلام کی وصیت کے مطابق امامت کے درجے پر فائز ھوئے اور ساتھ ساتھ ظاھری خلافت کے عھدیدار بھی بنے۔ تقریباًچہ ماہ تک آپ مسلمانوں کے خلیفہ رھے اور امور مملکت کا نظم ونسق سنبھالے رھے۔ اسی مدت میں معاویہ جو حضرت علی علیہ السلام اور آپ کے خاندان کا سخت ترین دشمن تھا اور کئی سال سے خلافت کی حرص و خواھش میں (سب سے پھلے خلیفہ سوم کے خون کے بدلے کے بھانے اور آخر کار خلافت کا دعویدار ھونے کی وجہ سے) اس نے کئی جنگیں بھی کی تھیں اور کئی بار عراق پر چڑھائی کی تھی جو اس زمانے میں امام حسن ہ السلام کا دار الخلافہ تھا، اس طرح آپ سے بھی جنگ شروع کر رکھی تھی۔ دوسری طرف اس نے امام حسن(ع) کے فوجی جرنیلوں اور سپاھیوں کو بھت زیادہ پیسہ اور مستقبل کے جھوٹے وعدے دے کر اپنے ساتھ ملالیا تھا۔ اس طرح اس نے ان کو امام حسن(ع) کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرلیا تھا۔

آخر کار امام حسن علیہ السلام صلح پر مجبور ھوکر اس شرط پر ظاھری خلافت سے دست بردار ھو گئے کہ معاویہ کے مرنے کے بعد خلافت دوبارہ امام حسن علیہ السلام کو واپس مل جائے گی اور اس کے ساتھ ھی ان کے خاندان اور طرفداروں کے لئے کسی قسم کی مشکلات پیش نہ آئیں گی۔

معاویہ نے اسلامی خلافت پر قبضہ کرلیا اور عراق میں داخل ھو کر ایک عام سرکاری تقریر میں صلح کی شرائط کو منسوخ کردیا۔ اس نے ھر ممکن ذریعے سے فائدہ اٹھاتے ھوئے اھل بیت(ع) اور ان کے طرفداروں پر سختیاں شروع کردیں۔

امام حسن علیہ السلام نے اپنی امامت کے تمام عرصے میں جو کہ دس سال کا تھا، بھت ھی سیاسی گھٹن اور سختی میں زندگی گزاری۔ ان کے لئے یا ان کے خاندان حتی کہ ان کے گھر کے اندر بھی ان کے لئے جائے امن نہ تھی۔ آخر کار  ۵۰ھ میں معاویہ کے اکسانے پر آپ کی بیوی (جعدہ) نے آپ کو زھر دے کر شھید کر دیا۔

امام حسن علیہ السلام انسانی کمالات میں اپنے والد گرامی کا کامل نمونہ اور اپنے نانا بزرگوار کی نشانی تھے۔ جب تک پیغمبر اکرمب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زندہ رھے آپ اور آپ کے بھائی (امام حسین علیہ السلام) ھمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس رھتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کبھی کبھی ان کو اپنے کندھوں پر سوار کر لیا کرتے تھے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عام و خاص نے بھت زیادہ احادیث بیان کی ھیں کہ آپ نے امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:

”یہ دونوں میرے بیٹے امام ھیں، خواہ وہ اٹھیں یا بیٹھیں۔“ (کنایہ ھے ظاھری خلافت کے عھدیدار ھونے یا نہ ھونے کا)۔ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھی آپ کے والد بزرگوار کی خلافت کے بعد آپ کی جانشینی کے بارے میں بھی بھت زیادہ احادیث موجود ھیں۔( ارشاد مفید )

 

فھرست     

 

تیسرے امام

 

سید الشھداء حضرت امام حسین علیہ السلام، حضرت علی علیہ السلام اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا کے دوسرے فرزند تھے۔ آپ کی ولادت  ۴ھء میں ھوئی تھی۔ اپنے بڑے بھائی امام حسن مجتبی ٰعلیہ السلام کی شھادت کے بعد خدا کے حکم اور دوسرے امام کی وصیت کے مطابق منصب امامت پر فائز ھوئے ۔

امام حسین علیہ السلام نے دس سال امامت کی اور اس تمام عرصے میں بھت ھی سخت حالات اور سیاسی گھٹن کی حالت میں زندگی گزاری ، کیونکہ اس زمانے میں دینی اصول و قوانین کی حیثیت ختم ھو چکی تھی اور حکومتی قوانین و احکام، خدا و رسول کے احکام کے جاگزیں ھو چکے تھے۔ ادھر معاویہ اور اس کے ساتھی اھلبیت علیھم السلام اور ان کے پیروکاروں کو ختم و نابود کرنے اور اسی طرح علی علیہ السلام اور اھلبیت علیھم السلام کا نام مٹانے کے لئے ھر کوشش اور امکان سے استفادہ کیا کرتے تھے۔

امام حسین علیہ السلام مجبوراً اس تاریک دور میں زندگی گزار رھے تھے اور ھر قسم کی سختیوں، روحانی شکنجوں اور اذیتوں کو جو معاویہ اور اس کے پیروکاروں کی طرف سے آپ پر وارد ھوتی تھیں، برداشت کر رھے تھے یھاں تک کہ ۶۰ھ میں معاویہ فوت ھوگیا اور اس کا بیٹا یزید اس کی جگہ بادشاہ بن گیا۔

بیعت کرناایک عربی رسم تھی جو اھم کاموں مثلاً سلطنت اور امارات میں جاری تھی اور ما تحت  یا خاص کرمشھور لوگ اپنے سلطا ن،بادشاہ یا امیرکے ھاتھ پر بیعت کیا کرتے تھے اور اس طرح اپنی وفاداری ،اطاعت اورموافقت کا اظھار کرتے تھے اورپھر بیعت کے بعد مخالفت کرنا قومی غداری اورشرمساری شمار کی جاتی تھی۔ یہ مخالفت ایک قطعی اور مضبوط معاھدے کی خلاف ورزی اور جرم کے مترادف تھی۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت میں بھی مجموعی طور پر وھی بیعت قابل قبول ھوتی تھی جو پورے اختیار کے اور کسی دباؤ کے بغیر ھو، نہ کہ دباؤ کے ذریعے۔

معاویہ نے بھی قوم کے بڑے بڑے اور مشھور لوگوں سے یزید کے لئے بیعت حاصل کرلی تھی لیکن امام حسین علیہ السلام پر کسی قسم کا بیعت کا دباؤ نھیں ڈالا گیا تھا یا ان سے بیعت کے لئے نھیں کھا گیا تھا اور نہ ھی یزید کی بیعت امام حسین(ع) کے لئے فرض کی گئی تھی۔ اس نے یزید کو خصوصاً نصیحت اور وصیت کی تھی کہ اگر حسین ابن علیعلیہ السلام تمھاری بیعت سے انکار کرے تو زیادہ اصرار نہ کرنا اور خاموشی اور چشم پوشی سے کام لینا، کیونکہ وہ اس مسئلے میں کافی تحقیق کرچکا تھا اوراس کام کے سخت نتائج کو اچھی طرح سے سمجھتا تھالیکن یزید اپنے غرور و تکبر اور دیدہ دلیری میں اپنے باپ کی نصیحت کو بھول چکا تھا اور اس نے اپنے باپ کی وفات کے فوراً بعد مدینے کے حاکم کو حکم دیا کہ امام حسین علیہ السلام سے اس کی بیعت لے ورنہ ان کا سر کاٹ کر شام بھیجا جائے۔

جب مدینے کے حاکم نے یزید کی خواھش کو امام حسین علیہ السلام کے سامنے بیان کیا تو امام حسین علیہ السلام نے اس پر غور کرنے کے لئے کچھ مھلت چاھی۔ اس کے بعد راتوں رات اپنے خاندان کے ساتھ مدینہ سے مکہ چلے آئے اور حرم کعبہ اور خانہ خدا میں جو روایتی پناہ گاہ تھی، پناہ گزیں ھو گئے۔

یہ واقعہ  ۶۰ھء کو ماہ رجب  کے آخر یا شعبان کے شروع میں پیش آیاتھا ۔ امام حسین علیہ السلام چار مھینے تک شھر مکہ میں پناہ گزیں کے طور پر زندگی گزارتے رھے۔ ایک طرف تو وہ لوگ جو معاویہ کے زمانہ خلافت میں اس کے ظلم و ستم کی وجہ سے ناراض تھے اور پھر یزید کی خلافت نے ان کی ناراضگی میں اور بھی اضافہ کردیا تھا، امام حسین علیہ السلام سے ھمدردی کا اظھار کرتے تھے اور دوسری طرف عراق خصوصاً شھر کوفہ سے یکے بعد دیگے خطوط آرھے تھے جن میں امام حسین علیہ السلام کو عراق آنے اور ان لوگوں کی قیادت سنبھالنے کی دعوت دی گئی تھی، تاکہ ظلم و ستم کو ختم کرنے کے لئے انقلاب برپا کریں۔لیکن یہ واقعات یزید اور اس کی حکومت کے لئے سخت خطرہ تھے۔

مکہ معظمہ میں امام حسین علیہ السلام کا قیام جاری تھا،یھاں تک کہ حج کا زمانہ آگیا اور دنیا کے مسلمان گروہ در گروہ اور جوق در جوق مکہ میں آنا شروع ھوگئے اور حج کرنے کے لئے تیار ھوگئے۔ اس وقت حضرت امام حسین علیہ السلام کو اطلاع ملی کہ یزیدی لوگوں کی ایک جماعت حاجیوں کی شکل میں مکہ میں داخل ھوگئی ھے جن کو مامور کیا گیا تھا کہ اپنے احرام کے نیچے ھتھیار کے ذریعے فریضہ حج کے دوران امام حسین(ع) کو شھید کردے۔

امام حسین علیہ السلام نے فریضہ حج کو مختصر طور پر ادا کرتے ھوئے وھاں سے نکل جانے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے لوگوں کی ایک جماعت کے سامنے مختصر سی تقریر کرتے ھوئے عراق کی جانب جانے کی اطلاع دی۔ آپ نے اپنی شھادت کی خبر بھی دی اور اس کے ساتھ ھی مسلمانوں سے مدد کی درخواست بھی کی کہ اس اھم کام میں ان کی مدد کریں اور خدا کی راہ میں اپنا خون بھادیں۔ اس سے اگلے دن آپ اپنے خاندان اور چند ساتھیوں کے ساتھ عراق کی طرف چل پڑے۔

امام حسین علیہ السلام نے پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ ھرگز یزید کی بیعت نھیں کریں گے اور یہ بھی اچھی طرح جانتے تھے کہ بیعت سے انکار کرنے کے بعد قتل ھوجائیں گے۔ بنی امیہ کی دھشتناک جنگی فوج جو عمومی بد عنوانیوں اور فکری تنزل میں رچی بسی ھوئی ھے حتماً آپ کو شھید کردے گی کیونکہ اس کے پاس کوئی اختیار نھیں ھے بلکہ وہ ھر یزیدی حکم کی ماننے والی ھے اور پھر اھل عراق بھی اس کے حامی اور مددگار ھیں۔

بعض مشھور و معروف افراد نے خیر خواھی اور ھمدردی کے طور پر آپ کا راستہ روک لیا اور آپ کو اس سفر اور تحریک کے خطرناک نتائج سے آگاہ کیا لیکن آپ نے جواب میں فرمایا:

”میں ھرگز بیعت نھیں کروں گا اور ظالم و ستمگر حکومت کی تائید و تصدیق نھیں کروں گا۔ میں یہ بھی جانتا ھوں کہ جھاں کھیں جاؤں گا یا رھوں گا، مجھے قتل کردیں گے۔چونکہ میں مکہ معظمہ کو خیرباد کھہ رھا ھوں، اس کا مطلب یہ نھیں کہ میں ڈر یا خوف سے یھاں سے بھاگ رھاں ھوں، بلکہ میرے سامنے خانہ خدا کی حرمت کا خیال ھے تاکہ میرا خون گرنے سے اس پاک گھر کی توھین اور بے حرمتی نہ ھو۔“(ارشاد مفید )

امام حسین علیہ السلام کوفہ کے طرف چل پڑے۔ ابھی کوفہ پھنچنے میں چند دنوں کا فاصلہ تھا کہ آپ کو اطلاع ملی کہ کوفہ میں یزید کے حاکم نے آپ کے نمائندے (مسلم بن عقیل) اور ایک دوسرے مشھور آدمی (ھانی بن عروہ) کو جو آپ کا طرفدار تھا قتل کرکے ان کے پاؤں میں رسی باندہ کر شھر کے بازاروں اور گلیوں میں پھرایا ھے۔ شھر اور گرد و نواح میں پھرے بٹھا دئے ھیں اور دشمن کی ان گنت فوج آپ کے انتظار میں ھے۔ اس حالت میں شھید ھوجانے کے سوا اور کوئی چارہ یا راستہ نھیں تھا۔ اسی جگہ امام نے پختہ عزم سے فیصلہ کرلیا اور بلا شک و شبہ اپنے قتل اور شھید ھوجانے کی اطلاع بھی سب کو دیدی تھی لیکن اس کے باوجود آپ نے اپنا تاریخی سفر جاری رکھا۔

کوفہ سے تقریباً ستر کلو میٹر کے فاصلے پر ایک بیابان تھا جس کو کربلا کھتے تھے۔ یھاں حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے ساتھی یزیدی فوج کے محاصرے میں آگئے اور ان کو مجبوراً یھاں آٹھ دن تک ٹھھرنا پڑا۔ محاصرہ ھر روز تنگ ھوتا جاتا رھا تھا اور ساتھ ھی دشمن کی تعداد بھی بڑھتی جارھی تھی۔ آخر کار حضرت امام حسین(ع) اور آپ کے گنتی کے چند ساتھی یزید کی تیس ھزار فوج کے مکمل محاصرے میں آگئے۔

ان چند دنوں میں امام حسین علیہ السلام اپنے موقف پر سختی سے ڈٹے رھے اور ساتھ ھی اپنے ساتھیوں اور اصحاب کے بارے میں بھی فیصلہ کیا۔ آپ نے رات کے وقت اپنے ساتھیوں اور ھمراھیوں کو اپنے پاس بلا کر فرمایا:

”ھمارے سامنے موت اور شھادت کے سوا اور کوئی راستہ نھیں رھا۔ ان لوگوں کو میرے سوا کسی اور کے ساتھ کوئی غرض اور واسطہ نھیں ھے۔ میں تم سے اپنی بیعت واپس لیتا ھوں۔ تم میں سے جو شخص بھی چاھے رات کے اندھیرے سے فائدہ اٹھا کر اس خطر ناک بھنور سے اپنی جان بچا سکتا ھے۔“

اس کے بعد آپ کے حکم سے روشنی گل کر دی گئی جب دو بارہ روشنی کی گئی تو دیکھا گیا کہ ایک فرد بھی اپنی جگہ سے ھلا تک نھیں تھا ۔

امام نے دوسری بار ان کا امتحان لیتے ھوئے فرمایا:

”دشمن صرف میرے پیچھے لگا ھوا ھے۔ تم میں سے جو بھی چاھے، رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ھوئے اس مھلک خطرے سے اپنی جان بچالے۔“

لیکن اس دفعہ امام کے وفادار اصحاب نے مختلف بیانات میں جواب دئے:

”ھم ھرگز حق کے اس راستے سے منہ نھیں پھیریں گے جس کے آپ امام اور رھبر ھیں۔ ھم ھرگز آپ کے دامن پاک کو نھیں چھوڑیں گے اور جب تک ھمارے بدنوں میں خون کی آخری رمق باقی ھے اور ھمارے ھاتھوں میں تلوار موجود ھے، ھم آپ کی حفاظت کریں گے۔“( مناقب ابن شھر آشوب )

دشمن کی طرف سے نویں محرم کو امام حسین علیہ السلام کو ”بیعت یا جنگ“ کا آخری انتباہ دیا گیا۔ امام حسین علیہ السلام نے عبادت کے لئے ایک رات کی مھلت مانگی اور آنے والے کل کی جنگ کے لئے تیار ھو گئے۔

دس محرم الحرام  ۶۱ھء کو امام حسین علیہ السلام اپنے نھایت قلیل اصحاب کے ساتھ دشمن کے بے انتھا لشکر کے سامنے صف آرا ھوگئے اور اس طرح جنگ شروع ھو گئی۔

اس دن صبح سے لے کر شام تک جنگ جاری رھی۔ امام، تمام ھاشمی جوان اور ان کے باوفا اور جاں نثار اصحاب یکے بعد دیگرے شھید ھوگئے (شھید ھونے والوں میں امام حسن(ع) کے دو چھوٹے کمسن بچے، امام حسین(ع) کا ایک چھوٹا اور ایک شیر خوار بچہ بھی شامل تھا)۔

دشمن کی فوج نے جنگ کے بعد امام حسین علیہ السلام کے حرم کو لوٹ لیا اور خیموں کو آگ لگا دی۔ اس کے بعد شھیدوں کے سروں کو ان کے جسموں سے الگ کرکے لاشوں کوبے گور و کفن اِدھر اُدھر پھینک دیا۔ پھر اھل حرم نے جو کہ سبھی بے آسرا و بے وارث مستورات اور بچیاں تھیں، شھیدوں کے ساتھ کوفہ کی طرف کوچ کیا۔ (قیدیوں میں مرد بھت کم تھے۔ ان میں امام حسین علیہ السلام کے فرزند امام زین العابدین جو سخت بیمار تھے یعنی شیعوں کے چوتھے امام اور ان کے چار سالہ فرزند محمد بن علی (امام باقرعلیہ السلام) جو بعد میں پانچویں امام ھوئے۔  قیدیوں کے ساتھ کوفہ کی طرف لے جائے گئے۔ پھر کوفہ سے دمشق لے جا کر یزید کے دربار میں ان کو حاضر کیا گیا۔

واقعہ کربلا، حرم اھلبیت علیھم السلام کو شھر بشھر پھرانے اور امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی بیٹی حضرت زینب سلام اللہ علیھا اور امام زین العابدین علیہ السلام کی تقاریر نے (جو انھوں نے کوفہ اور شام میں کی تھیں، بنو امیہ کی حکومت کو ھلا کر رکہ دیا اور ذلیل و خوار کر دیا اور معاویہ کے پروپیگنڈوں کا اثر زائل کر دیا بلکہ نوبت یھاں تک پھنچی کہ یزید نے سب کے سامنے اپنے جرنیلوں اور ماموروں کے عمل سے بیزاری اور نفرت کا اظھار شروع کردیا۔ کربلا کا واقعہ ایک اھم عنصر تھا جس کے فوری اثر نے بنی امیہ کی حکومت کا خاتمہ کردیا تھا اور مذھب شیعہ کی بنیاد بھت مضبوط کر دی تھی۔ اس واقعہ کا فوری اثر یہ ھوا کہ انقلاب اورشورشیں شروع ھو گئیں اور ساتھ ھی خونریز جنگوں کا ایک طویل سلسلہ بھی شروع ھوگیا جو بارہ سال تک جاری رھا۔ جن لوگوں نے امام حسین علیہ السلام کے قتل میں شرکت کی تھی ان میں سے ایک شخص بھی انتقام سے نھیں بچ سکا۔

جو شخص امام حسین علیہ السلام کی زندگی، یزید کی حکومت کی تاریخ اور اس زمانے کے حالات و واقعات پر غور کرے اور تاریخ کے اس حصے میں تحقیق کرے اس کے لئے کوئی شک و شبہ باقی نھیں رھے گا کہ اس وقت امام حسین علیہ السلام کے سامنے صرف ایک یھی راستہ تھا اور وہ تھا شھادت کا راستھ۔ یزید کی بیعت کرنے کا مطلب یہ تھا کہ اعلانیہ طور پر اسلام کے اصولوں کو پامال اور قربان کردیا جائے اور یہ چیز امام حسین علیہ السلام کے لئے ھرگز قابل قبول نہ تھی کیونکہ یزید نہ صرف دینِ مقدس اسلام کے قوانین اور اصولوں کا کوئی احترام نہ کرتا تھا بلکہ اسلام کے قوانین اور اصولوں کو پامال کرنے میں بھی بے باکانہ اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا۔

اس کے بر خلاف اس سے پھلے حکمراں اگر چہ اصولوں کی مخالفت کیا کرتے تھے مگر جو کچھ بھی کرتے دین کے پردے میں انجام دیتے تھے۔ دینی امور کو ظاھری طور پر محترم شمار کیا کرتے تھے۔

جیسا کہ بعض مفسرین نے کھا ھے کہ یہ دونوں امام (امام حسن(ع) اور امام حسین(ع)) مختلف نظریات رکھتے تھے یعنی امام حسن علیہ السلام صلح پسند تھے اور امام حسین(ع) علیہ السلام جنگ اور جھاد کو ترجیح دیتے تھے، کیونکہ ایک بھائی چالیس ھزار جنگی سپاھی رکھتے ھوئے بھی معاویہ کے ساتھ صلح کرلیتا ھے اور دوسرا بھائی صرف چالیس افراد کے ساتھ یزید کے خلاف جنگ کا اعلان کردیتا ھے، یہ بات بالکل بے جا ھے۔

ھم دیکھتے ھیں کہ یھی امام حسین علیہ السلام جو اک دن یزید کی بیعت پر آمادہ نھیں ھوئے تھے، اپنے بھائی امام حسن(ع) کی طرح دس سال تک معاویہ کی حکومت میں زندگی گزارتے رھے (کہ وہ بھی دس سال تک معاویہ کی حکومت میں زندگی گزارتے رھے تھے) اور انھوں نے ھرگز مخالفت نہ کی تھی کیونکہ اگر اس وقت امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام معاویہ کے خلاف جنگ کرتے تو اس میں کوئی شک نھیں کہ شھید ھوجاتے مگر اسلام کو کوئی فائدہ نہ پھنچتا۔ اس لئے کہ معاویہ کی بظاھر حق بجانب سیاست کے مقابلے میں جو اپنے آپ کو پیغمبر اکرم کا صحابی، کاتب وحی اور خال المومنین کے طورپر تعارف کراتا تھا لیکن دوسری طرف کسی قسم کے فریب سے بھی نھیں چوکتا تھا، بالکل کوئی اثر نہ ھوتا۔

اس کے علاوہ معاویہ اپنے کارندوں کے ذریعے ان دونوں اماموں کو قتل کرواسکتا تھا اور پھر ان کی سوگواری اور تعزیت کرتے ھوئے ان کا ظاھری انتقام لینے پر بھی آمادہ ھوجاتا جیساکہ اس نے خلیفہ سوم کے ساتھ بھی یھی سلوک کیا تھا۔

 

فھرست     

 

چوتھےامام

 

امام سجادعلیہ السلام (علی بن الحسین، جن کے القاب زین العابدین اور سجاد تھے) چوتھے امام ھیں۔ آپ تیسرے امام (امام حسین علیہ السلام) کے فرزند تھے اور ایرانی شھنشاہ یزد جرد کی بیٹی شھر بانو کے بطن سے پیدا ھوئے تھے۔ آپ، امام سوم کے اکیلے فرزند تھے جو کربلا میں زندہ بچ گئے تھے ۔ آپ بھی اپنے والد کے ساتھ کربلا میں تشریف لائے تھے لیکن چونکہ سخت بیمار تھے اور ھتھیار اٹھانے اور جنگ میں شرکت کرنے کی طاقت نھیں رکھتے تھے اسی لئے جھاد اور شھادت سے معزور رہ گئے تھے اور حرم کے قیدیوں کے ساتھ شام بھیج دئے گئے۔

قید کا زمانہ گزارنے کے بعد یزید کے حکم سے عوامی مخالفت کو نرم کرنے کے لئے آپ کو احترام کے ساتھ مدینے بھیج دیا گیا تھا مگر دوبارہ آپ کو اموی خلیفہ عبد الملک کے حکم سے پا بہ زنجیر مدینہ سے شام لایا گیا لیکن کچھ عرصے بعد پھر مدینے تشریف لے آئے۔

امام چھارم مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد اپنے گھر میں گوشہ نشین ھو گئے اور اپنے گھر کے دروازے تمام لوگوں پر بند کرکے خدا کی عبادت میں مشغول ھوگئے اور اپنے خاص شیعوں مثلاً ابوحمزہ ثمالی، ابو خالد کابلی اور ایسے ھی چند دوسرے افراد کے سوا کسی اور سے نھیں ملتے تھے۔ البتہ یہ خاص لوگ اپنے امام سے جو تعلیمات حاصل کرتے تھے آپ کے پیروکاروں تک پھنچا دیتے تھے اور اس طرح مذھب شیعہ روز بروز ترقی کرتا گیا جس کے بیشتر اثرات پانچویں امام کے زمانے میں رونما ھوئے۔

چوتھے امام کی دعاؤں کی ایک کتاب ”صحیفہ سجادیھ“ کے نام سے مشھور ھے یہ ستاون دعاؤں پر مشتمل ھے جن میں بھت ھی عمیق اور اسرار و معارف الھی پوشیدہ ھیں ۔اسی ”مجموعے کو زبور آل محمد“ بھی کھا جاتا ھے۔

امام چھارم کو پینتیس سال کی امامت کے بعد بعض احادیث کے مطابق اموی خلیفہ ھشام بن عبد الملک کی ایما پر ولید بن عبد الملک نے زھر دیدیا تھا اور آپ ۹۵ ھ میں شھادت پا گئے تھے۔

 

فھرست     

 

پانچویں امام

 

امام محمد بن علی (باقرعلیہ السلام) پانچویں امام ھیں۔ باقر کے معنی ھیں چیرنے پھاڑنے والا یعنی علم کو چیر کر تحقیق کرنے والا۔ یہ لقب آپ کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے عطا ھوا تھا۔

آپ چوتھے امام کے بیٹے ھیں اور ۵۷ ھ میں پیدا ھوئے۔ واقعہ کربلا میں آپ کی عمر پانچ سال تھی۔ اس جنگ میں آپ موجود تھے۔ آپ اپنے والد ماجد کے بعد خدا کے حکم اور اپنے آبا و اجداد کے تعارف سے منصب امامت پر فائز ھوئے اور  ۱۱۴ھء  یا  ۱۱۷ہ میں ابراھیم بن عبد الملک اموی خلیفہ کے بھتیجے نے آپ کو زھر دے کر شھید کردیا۔

پانچویں امام کے زمانہ امامت میں ایک طرف تو بنی امیہ کے مظالم کی وجہ سے اسلامی ممالک میں ھر روز انقلاب اور جنگیں رونما ھوتی رھتی تھیں اور دوسری طرف خود اموی خاندان میں اختلاف پیدا ھو رھے تھے۔ ان مشکلات نے خلافت اور حکومت کو اپنی طرف مشغول کر رکھا تھا جس کی وجہ سے ایک حد تک وہ اھلبیت(ع) پر ظلم کرنے سے باز رھے۔

دوسری طرف واقعہ کربلا اور اھل بیت(ع) کی مظلومیت جس کی مثال امام چھارم تھے، ایسے امور تھے جو مسلمانوں کو اھل بیت(ع) کا گرویدہ بنا رھے تھے۔ ان حالات و عوامل کی وجہ سے عوام  خصوصاً شیعہ ایک سیلاب کی مانند پانچویں امام کے پاس مدینہ منورہ میں پھنچ کر اسلامی حقائق اور تعلیمات اھل بیت علیھم السلام حاصل کرنے میں پیش پیش تھے اور آپ کے پاس لوگوں کا اس قدر مجمع لگا رھتا تھا کہ آپ سے پھلے ائمہ اھل بیت علیھم السلام کو ایسا موقع میسر نہ آسکا تھا۔ اس دعوے کا ثبوت وہ بے شمار احادیث و روایات ھیں جو پانچویں امام سے نقل اور روایت ھوئی ھیں۔ آپ کے بھتسے اصحاب شیعہ دانشمند اور رجال علم تھے جو آپ سے مختلف علوم میں فیض یاب ھوئے اورآپ کے معارف اسلامی کے مکتب میں تعلیم حاصل کرتے تھے ۔ ان کے نام آج بھی فھرستوں اور علم رجال کی کتابوں میں درج ھیں۔

 

فھرست     

 

چھٹےامام

 

امام جعفر بن محمد (صادقعلیہ السلام) پانچویں امام کے فرزند ھیں جو  ۸۳ھء میں پیدا ھوئے اور ۱۴۸ ھء میں عباسی خلیفہ منصور کی ایماء پر آپ کو زھر دے کر شھید کر دیا گیا۔

چھٹے امام کے عھد خلافت میں اسلامی ممالک میں انقلابات کی وجہ سے اور خاص اس تحریک کی وجہ سے جو مسوّدہ (سیاہ پوشوں) نے بنو امیہ کی خلافت کو ختم کرنے کے لئے چلائی تھی اور وہ خونریز جنگیں جو بنو امیہ کی خلافت کو ختم کرنے کا باعث ھوئیں اور جن کی وجہ سے پانچویں امام کو اپنے بیس سالہ عھد امامت میں اسلامی حقائق بیان کرنے اور اھل بیت(ع) کی تعلیمات کو عام کرنے کا بھترین موقع ھاتھ آگیا تھا، امام ششم کے لئے بھت ھی مناسب ماحول پیدا ھوگیا تھا تاکہ دینی تعلیمات کی بھترین طریقے سے تبلیغ کرسکیں۔

آپ نے اپنی امامت کے آخری زمانے تک جو بنو امیہ کی خلافت کے خاتمے اور بنو عباس کی خلافت کے آغاز کا زمانہ تھا، اس فرصت سے خوب فائدہ اٹھایا اور دینی تعلیم و تبلیغ میں مشغول رھے۔ آپ نے مختلف عقلی و نقلی علوم و فنون میں بھت سی علمی شخصیتیں پیدا کیں مثلاً زرارہ، محمد بن مسلم، مومن طاق، ھشام بن حکم، ابان بن تغلب، ھشام بن سالم، حریز، ھشام کلبی نثابہ، جابر بن حیان وغیرہ جن کو آپ نے فیضیاب کیا اور حتی کہ عام علمی دانشوروں مثلاً سفیان ثوری، امام ابو حنیفہ (حنفی مذھب کے بانی) ، قاضی سکونی، قاضی ابو البختری وغیرہ کو بھی آپ کی شاگردی کا فخر حاصل رھا ھے (مشھور ھے کہ امام ششم کے مکتب علم اور محفل درس سے چار ھزار دانشور، محدث پیدا ھوئے) ۔

وہ احادیث جو ”صادقین“ یعنی امام پنجم اور امام ششم سے نقل ھوئی ھیں ان تمام احادیث کے برابر ھیں جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دوسرے دس ائمہ علیھم السلام سے نقل ھوئی ھیں بلکہ ان سے بھی زیادہ ھیں۔

آپ اپنے آخری دور میں عباسی خلیفہ منصور کے مظالم سے دوچار ھوگئے تھے۔ آپ پر پابندی اور نظر بندی عائد کردی گئی، آپ کو آزار و شکنجے بھی دیے گئے اور اس کے ساتھ ھی علوی سادات کا اس قدر قتل عام کیا گیا کہ بنی امیہ اپنی سفاکی اورظلم و ستم کے با وجود اس حد تک نہ پھنچے تھے۔ خلیفہ عباسی منصور کے حکم سے ان کے پیروکاروں کو گروہ در گروہ پکڑ کر جیلوں اور کال کوٹھریوں میں بند کر دیا جاتا تھا اور ان کو بے دریغ شکنجوں اور اذیت کے ساتھ قتل کر دیا جاتا تھا۔ بعض لوگوں کی گردن اڑا دی جاتی تھی، بعض کو زندہ در گور کر دیا جاتا تھا اور بعض کو زندہ عمارتوں کی دیواروں میں چنوا دیا جاتا تھا۔

عباسی خلیفہ منصور نے چھٹے امام کو گرفتار کرنے کے لئے حکم جاری کیا (امام ششم اس سے پھلے بھی ایک بار عباسی خلیفہ سفاح کے حکم سے گرفتار کرکے عراق بھیجے گئے تھے اور اس سے پھلے پانچویں امام کی زندگی میں اموی خلیفہ ھشام کے حکم سے آپ کو دمشق میں گرفتار کیا گیا تھا) ۔

امام(ع) مدت تک نظر بند رھے اور کئی بار آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا اور آپ کی توھین کی گئی لیکن آخر کار آپ کو مدینہ جانے کی اجازت دے دی گئی اور امام(ع) واپس مدینہ تشریف لے گئے اور باقی تمام عمر خاموشی سے عزلت میں گزار دی، یھاں تک کہ منصور کی چالبازی سے آپ کو زھر دے کر شھید کردیا گیا۔

چھٹے امام کی شھادت کی خبر سنتے ھی عباسی خلیفہ منصور نے مدینہ کے والی کو حکم دیا کہ آپ کے وارثوں پر مھربانی کے بھانے امام کے گھر جائے اور آپ کے وصیت نامے کو لے کر پڑھے اور جس کسی کو آپ کا وصی یا جانشین بنایا گیا ھو اس کی فوراً گردن اتاردی جائے۔ البتہ اس حکم سے منصور کا مطلب یہ تھا کہ امامت کے سلسلے کو ختم کر دیا جائے اور شیعہ مذھب کی آواز کو مکمل طور پر خاموش کر دیا جائے لیکن اس کی سازش کے برعکس جب مدینہ کے حاکم نے وصیت نامہ پڑھا تو دیکھا کہ امام نے پانچ افراد کو اپنا جانشین مقرر کیا ھے یعنی (۱) خود خلیفہ (منصور عباسی) (۲)مدینے کا والی (۳)عبد اللہ افطح امام کے بڑے فرزند (۴)موسیٰعلیہ السلام امام کے چھوٹے فرزند (۵)حمیدھ۔ اس طرح منصور کا سارا منصوبہ خاک میں مل گیا۔

 

فھرست     

 

ساتویں امام

 

امام موسی بن جعفر (کاظم) علیہ السلام، چھٹے امام کے بیٹے ھیں جنکی ۱۲۸ ھء میں ولادت ھوئی اور ۱۸۳ ھء میں قید خانے میں زھر دے کر شھید کر دیا گیا۔

آپ اپنے والد بزرگوار کی شھادت کے بعد خدا کے حکم اور آباء و اجداد کے تعارف سے امامت کے منصب پر فائز ھوئے۔ ساتویں امام(ع)، عباسی خلفاء منصور، ھادی، مھدی اور ھارون کے ھم عصر تھے۔ آپ بھت ھی تاریک اور مشکل دور میں خاموشی کے ساتھ (سخت تقیہ کی حالت میں) بھت کٹھن زندگی گزارتے رھے۔ آخر کار جب ھارون الرشید حج کے لئے مدینہ گیا تو اس کے حکم سے امام ھفتم(ع) کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب آپ مسجد نبوی کے اندر نماز میں مشغول تھے۔ آپ کو زنجیروں میں جکڑ کر قید میں ڈال دیا گیا اور پھر مدینہ سے بصرہ اور بصرہ سے بغداد لے جایا گیا۔ اس طرح آپ کو کئی سال تک قید میں رکھا گیا۔ اس کے ساتھ ھی آپ کو ایک قید خانے سے دوسرے قید خانے میں منتقل کرتے رھتے تھے۔ آخر کار بغداد کے قید خانے میں سندی بن شاھک ملعون نے آپ کو زھر دے کر شھید کر دیا۔ آپ ”مقابر قریش“ میں جو اس وقت کاظمیہ (عراق) میں واقع ھے دفن کئے گئے۔

 

 

فھرست     

 

آٹھویں امام

 

امام علی بن موسیٰ (رضا) علیہ السلام، ساتویں امام(ع) کے بیٹے ھیں (مشھور تواریخ کے حوالے سے) ۱۴۸ ھء میں آپ کی ولادت ھوئی اور ۲۰۳ھء میں شھادت ھوئی۔

امام ھشتم اپنے والد ماجد کی شھادت کے بعد خدا کے حکم اور اپنے بزرگوں کے تعارف سے عھدہ امامت پر فائز ھوئے۔ اپنی امامت کا کچھ حصہ ھارون الرشید عباسی خلیفہ کے زمانے میں گزارا۔ اس کے بعد اس کے بیٹے امین عباسی اور پھر مامون عباسی کے ھم عصر بھی رھے۔

ھارون الرشید کی وفات کے بعد اس کے بیٹے مامون اور امین میں اختلافات پیدا ھوگئے جس کی نتیجہ میں خونریز جنگیں شروع گئیں اور آخر کار امین مارا گیا اور مامون نے خلافت پر قبضہ کر لیا۔

اس وقت تک علوی سادات کے لئے بنو عباس کی سیاست بڑی سخت اور خونی تھی جو کہ روز بروز سخت تر ھوتی جا رھی تھی۔ جب بھی علویوں میں سے کوئی شخص اپنی تحریک شروع کرتا تو خونریز جنگوں کا ایک سلسلہ شروع ھو جاتا تھا اور یہ امر خلافت کے لئے سخت مشکلات پیدا کردیتا تھا۔

اگر چہ اھل بیت علیھم السلام کے شیعہ رھنما اور امام اس زمانے تک تحریک اور انقلاب شروع کرنے والوں کے ساتھ تعاون اور مداخلت نھیں کیا کرتے تھے لیکن شیعہ جن کی تعداد اس زمانے میں بھی قابل توجہ تھی ھمیشہ اھل بیت علیھم السلام کے ائمہ کو اپنا دینی رھنما اور واجب الاطاعت جانتے تھے اور ان کو ھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حقیقی خلفاء مانتے تھے کیونکہ خلافت اور دار الخلافہ قیصر و کسریٰ کے درباروں کا نمونہ بن چکے تھے اور ایک لاابالی عیاش گروہ کے ذریعے ملکی امور انجام پاتے تھے۔ شیعہ ان حکومتوں کو ناپاک اور اپنے ائمہ کی شان کے خلاف جانتے تھے۔ لھذا اس حالت کا جاری رھنا اور ترقی کرنا بھی حکومت اور خلافت کے لئے سخت خطرناک تھا اور یہ خطرہ ھمیشہ در پیش تھا۔

مامون نے سوچا کہ ان مشکلات کو اس کے آباء و اجداد کی سترسالہ پرانی سیاست حل نہ کرسکی تھی۔ لھذا وہ چاھتا تھا کہ ایک نئی سیاسی چال کے ذریعے ان مشکلات کو ختم کردے اور وہ یہ تھی کہ امام ھشتم کو اپنا ولی عھد (جانشین) بنالے اور اس طرح آئندہ کے لئے ھر ایسی مشکل کا حل تلاش کرلے، کیونکہ جب علوی سادات اپنے آپ کو خلافت کا حصہ دار سمجہ لیں گے، اس کے علاوہ شیعہ بھی اپنے امام کو خلافت کا جانشین دیکہ لیں گے جس کو وہ ھمیشہ ناپاک اور پلید کھتے آئے ھیں تو اس وقت وہ معنوی اخلاص و ارادت جو وہ ائمہ اھل بیت(ع) کے بارے میں رکھتے ھیں آھستہ آھستہ زائل ھو جائے گی اور اس طرح ان کے مذھبی عقائد بھی مٹ جائیں گے اور اس کے ساتھ ھی وہ خطرہ بھی خود بخود مٹ جائے گا جو ان کو خلافت اور سیاست سے رھتا ھے۔

ظاھر ھے کہ اصل مقصد حاصل ھو جانے کے بعد مامون کے لئے امام(ع) کو ختم کردینا کوئی مشکل کام نہ تھا۔ مامون نے اپنے اس فیصلے اور عزم کو عملی جامہ پھنانے کے لئے امام(ع) کو مدینہ سے مَرو میں بلایا۔ سب سے پھلے آپ کو خلافت کی اور اس کے بعد جانشینی کی پیش کش کی لیکن آپ نے مختلف طریقوں سے معذرت کرکے اس پیش کش کو قبول نہ کیا۔ آخر کار مامون نے بڑے اصرار سے جانشینی پر آپ کو راضی کرلیا اور امام نے بھی مجبوراً اس شرط پر یہ عھدہ قبول کرلیا کہ حکومت کے کاروبار یا کسی کو منصب دینے یا معزول کرنے میں کوئی مداخلت نھیں کریں گے۔

یہ واقعہ ۲۰۰ ھ میں پیش آیا مگر تھوڑے ھی عرصے بعد مامون کو شیعوں کی بڑھتی ھوئی تعداد اور ترقی اور اپنے امام سے بھت زیادہ محبت اور عوام کے استقبال اور حتی کہ خود اس کے سپاھیوں اور اعلیٰ عھدیداروں کی توجہ امام(ع) کی طرف زیادہ ھوجانے سے اپنی غلطی کا احساس ھو گیا اور وہ اس کا سد باب کرنے پر آمادہ ھوا۔ اسی وجہ سے اس نے آپ کو زھر دلوا کر شھید کروادیا۔

شھادت کے بعد امام ھشتم کو ایران کے شھر طوس میں جس کو اب مشھد کھتے ھیں دفن کیا گیا۔

مامون الرشید عقلی علوم کی طرف بھت زیادہ مائل تھا اس سلسلے میں اس سے علوم عقلی

 کے عربی میں ترجمے کرائے۔ وہ علمی مجالس بھی منعقد کیا کرتا تھا جن میں مختلف مذاھب کے علماء اور دانشور جمع ھوتے تھے۔ اس طرح وھاں علمی مناظرے ھوا کرتے تھے۔ امام ھشتم(ع) بھی ان مجالس میں شرکت کیا کرتے تھے اور دوسرے مذاھب کے علماء کے ساتھ بحث و مباحثہ کیا کرتے تھے۔ ان مجالس اور مناظروں کو بھت سیشیعہ احادیث میں نقل کیا گیا ھے۔

 

 

فھرست     

 

نویں امام

 

امام محمد بن علی علیہ السلام (جن کا لقب تقی یا امام جواد اور کھیں ابن الرضا بھی ملتا ھے) آٹھویں امام کے فرزند ھیں جن کی ۱۹۵ھء میں ولادت ھوئی۔ ۲۲۰ ہ میں عباسی خلیفہ معتصم کی ایماء پر آپ کی بیوی نے جو عباسی خلیفہ مامون کی بیٹی تھی، آپ کو زھر دے کر شھید کیا۔ آپ اپنے جد امجد امام ھفتم کے پھلو میں کاظمیہ (عراق) میں مدفون ھیں۔

آپ اپنے والد ماجد کے بعد خدا کے حکم اور بزرگوں کے تعارف سے امامت کے منصب پر فائز ھوئے۔ امام نھم اپنے والد کی وفات کے وقت مدینہ میں تھے۔ اس کے بعد مامون نے آپ کو بغداد میں بلایا جو اس زمانے میں خلافت کا مرکز یا دار الخلافہ تھا۔ ظاھری طور پر آپ کے ساتھ بھت زیادہ شفقت اور محبت روا رکھی گئی، یھاں تک کہ خلیفہ نے اپنی بیٹی کا نکاح بھی آپ سے کردیا اور بغداد میں ھی ٹھھرا لیا۔ در حقیقت مامون یہ چاھتا تھا کہ اس ذریعے سے امام(ع) کو گھر کے اندر اور گھر کے باھر نظر بند رکھے تاکہ آپ پر پورا کنٹرول کرسکے۔

ایک عرصہ تک امام بغداد میں تشریف فرما رھے، پھر مامون کی اجازت سے مدینہ چلے گئے اور مامون کے آخری عھد تک مدینہ میں ھی قیام پذیر رھے۔

مامون کی وفات پر معتصم باللہ نے عنان حکومت سنبھالی تو امام نھم کو دو بارہ مدینہ سے بغداد بلایا گیا اس کے بعد ان پر پابندی عائد کردی گئی اور آخر کار معتصم باللہ کے حکم یا اشارے سے امام(ع) کی بیوی کے ذریعے آپ کو زھر دلوا کر شھید کر دیا گیا۔

 

 

فھرست     

 

دسویں امام

 

امام علی بن محمد علیہ السلام (جن کا لقب نقی اور کھیں ھادی بھی ملتا ھے) دسویں امام ھیں۔ آپ امام نھم(ع) کے فرزند ھیں، ۲۱۲ہ  ئمیں کو مدینہ منورہ میں آپ کی ولادت ھوئی اور۲۵۴ھء میں عباسی خلیفہ معتز باللہ نے آپ کو زھر دلوا کر شھید کردیا۔

دسویں امام(ع) سات عباسی خلیفاؤں یعنی مامون، معتصم، واثق، متوکل، منتصر، مستعین اور معتز کے ھمعصر رھے۔

معتصم باللہ کے عھدخلافت۲۲۰ھء میں جب آپ کے والد ماجد امام نھم کو بغداد میں زھر دے کر شھید کردیا گیا تھا اس وقت آپ مدینہ منورہ میں تھے اور خدا کے حکم اور اپنے آباء و اجداد یعنی گزشتہ ائمہ علیھم السلام کے تعارف سے آپ امامت کے منصب پر فائز ھوئے اور اسلامی تعلیمات دینا شروع کیں، یھاں تک کہ عباسی خلیفہ متوکل کا زمانہ آگیا۔

خلیفہ متوکل نے ۲۴۳ھء میں دشمنوں کی شکایات سن سن کر حکومت کے اعلیٰ عھدیدار کو حکم دیاکہ دسویں امام(ع) کو مدینہ سے سامرا منتقل کر دیاجائے جو اس زمانے میں خلافت کا مرکز تھا۔ اس نے امام کو ایک محبت بھرا خط لکھا جس میں آپ کی بھت زیادہ تعظیم و تکریم کی گئی تھی اور آپ سے تشریف لانے اور ملاقات کی خواھش کا اظھار کیا گیا تھا۔

جب آپ تشریف لے آئے تو آپ کے سامرا میں داخل ھونے کے بعد ظاھری طور پر تو کوئی اقدام نہ کیا گیا لیکن آپ کی توھین اور ھتک کے اسباب فراھم کردئیے گئے اور آپ کی توھین میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا گیا۔

خلیفہ متوکل عباسی، خاندان رسالت کی دشمنی میں دوسرے خلفاء کے مقابلے میں بے مثال تھا۔ خصوصاً حضرت علی(ع) کا سخت دشمن تھا اور آپ کی شان میں کھلم کھلا توھین آمیز الفاظ کھا کرتا تھا یا آپ کو گالیاں دیا کرتا تھا۔ اس نے ایک شخص کو مامور کیا ھوا تھا جو بھری محفل میں آپ کی نقلیں اتارا کرتا تھا اور خلیفہ قھقھے مار کر ھنسا کرتا تھا۔ ۲۳۷ھء میں اس کے حکم سے کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام کا مقبرہ، گنبد اور آس پاس کے کئی مکانات کو مسمار کرکے زمین کے ساتھ یکساں کردیا گیا۔ اس کے بعد اس کے حکم سے امام کے مقبرے پر پانی چھوڑا گیا۔ پھر اس نے حکم دیا کہ امام کے مقبرہ کی جگہ پر ھل چلا کر کھیتی باڑی کی جائے تاکہ امام(ع) کے مزار کی جگہ اور آپ کا نام بالکل مٹ جائیں۔

متوکل کے زمانے میں علوی سادات کے حالات رقت بار اور ناگفتہ بہ ھوچکے تھے۔ یھاں تک کہ ان کی عورتوں کے پاس تن ڈھانپنے کے لئے کپڑے تک موجود نہ تھے اور بعض کے پاس صرف ایک بوسیدہ سی چادر ھوا کرتی تھی جس کو اوڑھ کر وہ باری باری نماز ادا کیا کرتی تھیں۔ اس قسم کے دباؤ ان علوی خاندانوں پر بھی وارد ھوئے جو مصر میں قیام پذیر تھے۔

امام دھم متوکل کے شکنجوں کو برداشت کرتے رھے، یھاں تک کہ وہ اس دنیا سے چلا گیا، اس کے بعد منتصر، مستعین اور معتز باری باری خلیفہ بنے۔ معتز کی ایما ء پر آپ کو زھر دے کر شھید کر دیا گیا۔

 

 

فھرست     

 

گیارھویں امام

 

امام حسن بن علی علیہ السلام(عسکری) دسویں امام کے بیٹے ھیں۔ آپ کی ولادت ۲۳۲ھء میں ھوئی۔ عباسی معتمد باللہ نے زھر دے کر آپ کو شھید کروا دیا۔

گیارھویں امام اپنے والد کی شھادت کے بعد حکم خدا اور گزشتہ ائمہ طاھرین علیھم السلام کے تقرر سے امامت کے بلند منصب پر فائز ھوئے۔ آپ اپنی سات سالہ امامت کے دوران خلیفہ کی سختیوں اور ظلم و ستم کے باعث تقیہ کی حالت میں بڑی احتیاط سے قدم اٹھاتے تھے۔ لھذا آپ عام لوگوں کو حتیٰ شیعوں کو بھی اپنے پاس آنے کے اجازت نھیں دیتے تھے، سوائے ان خاص افراد کے جن کو آپ ذاتی طور سے جانتے تھے اس طرح آپ زیادہ تر نظر بندی کی زندگی گزارتے رھے۔

ان تمام سختیوں اور دباؤ کا مقصد یہ تھا کہ سب سے پھلے تو اس زمانے میں شیعوں کی تعداد اور طاقت قابل توجہ حد تک پھنچ چکی تھی اور چونکہ شیعہ امامت کے قائل ھیں، یہ بات سب پر واضح اور روشن ھو چکی تھی اور شیعوں کے ائمہ بھی جانے پھچانے تھے، اسی لئے ھر خلیفہ، امام وقت کو زیادہ سے زیادہ زیر نظر اور زیر کنٹرول رکھتا تھا اور جس طرح بھی ممکن ھوتا اپنے خفیہ منصوبوں کے ذریعہ ائمھ(ع) کو ختم کرنے کی کوشش کرتا تھا۔

دوسرے یہ کہ خلیفہ کو معلوم ھو چکا تھا کہ شیعہ گیارھویں امام(ع) کے بیٹے پر ایمان رکھتے ھیں اور گیارھویں امام(ع) اور اسی طرح گزشتہ ائمہ کی احادیث سے پتہ چلتا تھا کہ یھی فرزند امام مھدی موعود(ع) ھونگے جن کے بارے میں حدیث متواترہ کے ذریعہ خاص و عام نے اطلاع دی ھے اور ان کو بارھواں اور آخری امام مانتے ھیں۔

اسی وجہ سے گیارھویں امام دوسرے تمام آئمہ علیھم السلام سے زیادہ خلیفہ کے زیر نظر تھے اور خلیفۂ وقت بھی پختہ ارادہ کر چکا تھا کہ جس طرح بھی ھو ، شیعہ امامت کی کھانی کو ختم کردے اور اس دروازے کو ھمیشہ کے لئے بند کردے۔

اس طرح جونھی گیارھویں امام(ع) کی علالت کی خبر خلیفہ کو پھنچی تو اس نے فوراً آپ کے پاس طبیب اور حکیم بھیجے اور ساتھ ھی اپنے چند قابل اعتماد افراد کو آپ کے گھر میں متعین کردیا جو قاضی تھے۔ وہ ھمیشہ آپ کے ساتھ ساتھ رھتے تھے، گھر کے اندر اور باھر کے حالات پر نظر رکھتے تھے۔ امام کی شھادت کے بعد بھی آپ کے خانۂ مبارک کی تلاشی لی گئی اور دائیوں کے ذریعے آپ کی کنیزوں کا معائنہ کرایا گیا۔ دو سال تک خلیفہ کے گماشتے آپ کے بیٹے کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے رھے، یھاں تک کہ بالکل نا امید اور مایوس ھو گئے۔

گیارھویں امام کو ان کی شھادت کے بعد ان کے گھر کے اندر شھر سامرا میں ان کے والد ماجد کے پھلو میں دفن کیا گیا۔

یہ جان لینا چاھیے کہ ائمہ اھل بیت(ع) نے اپنی زندگی میں علما، محدثین اور دانشوروں کے بھت زیادہ گروھوں کو زیور علم سے آراستہ کیا ھے کہ جن کی تعداد سینکڑوں اور ھزاروں تک پھنچتی ھے  کے اختصار کے پیش نظر ھم نے ان کے ناموں، حالات اور کتابوں کی فھرستیں لکھنے کو نظر انداز کردیا ھے ۔

 

فھرست     

 

بارھویں امام

 

حضرت مھدی موعود علیہ السلام (جو عام طور پر ”امام زمان“ اور صاحب الزمان“ کے لقب سے یاد کئے جاتے ھیں) گیارھویں امام کے فرزند ھیں اور ان کا نام بھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر ”محمد“ ھے۔ آپ کی ولادت ۲۵۵ھء میں سامرا میں ھوئی۔ ۲۶۰ھء یعنی اپنے والد ماجد کی شھادت تک ان کے زیر تربیت زندگی گزارتے رھے لیکن لوگوں سے بالکل الگ اور ان کی نظروں سے پنھاں ۔سوائے خاص شیعوں کے کسی کو آپ کے بارے میں کوئی اطلاع نہ تھی اور نہ ھی کوئی ان سے ملاقات کرسکتا تھا۔

گیارھویں امام کی شھادت کے بعد جب آپ امامت کے منصب پر فائز ھوئے تو آپ خدا کے حکم سے غائب ھوگئے اور اپنے نائبین کے سوا کسی کو نظر نھیں آتے تھے اور وہ بھی خاص حالات میں۔

 

خاص نائبین

حضرت امام مھدی علیہ السلام نے ایک مدت تک عثمان بن سعید عمری کو جو آپ کے دادا اور پھر آپ کے والد کے اصحاب میں سے تھےنیزثقہ اور امین بھی تھے، اپنا نائب مقرر کیا۔ ان کے ذریعے شیعوں کے سوالات اور درخواستوں کے جواب دیا کرتے تھے۔

عثمان بن سعید کے بعد ان کے بیٹے محمد بن عثمان امام مھدی علیہ السلام کے نائب ھوئے اور ان کی وفات کے بعد ابوالقاسم حسین بن روح نو بختی آپ کے نائب خاص کی حیثیت سے منصوب ھوئے۔ حسین بن روح کی وفات کے بعد علی بن محمد سمری کو امام مھدی علیہ السلام کی نیابت حاصل ھوئی۔

ابھی علی بن محمد سمری کی وفات میں چند دن باقی تھے (جو ۳۲۹ھء میں فوت ھوئے) کہ امام مھدی علیہ السلام کی طرف سے ایک حکم نامہ جاری ھوا جس میں علی بن محمد سمری سیکھا گیا تھا کہ وہ چہ دن بعد فوت ھو جائیں گے اور اس کے بعد خاص نیابت کا عھدہ ختم ھو جائے گا اور غیبت کبریٰ شروع ھوجائے گی۔ یہ غیبت کبریٰ اس دن تک جاری رھے گی جب تک اللہ تعالیٰ امام مھدی علیہ السلام کے دوبارہ ظھور کا اذن فرمائے گا۔

اس حکم کے مطابق حضرت امام مھدی(ع) علیہ السلام کی غیبت دو حصوں میں تقسیم ھوتی ھے:

۱۔ غیبت صغریٰ: غیبت صغریٰ ۲۶۰ھء سے شروع ھوئی اور ۳۲۹ھء تک جاری رھی۔ اس غیبت کا عرصھستر سال ھے۔

۲۔ غیبت کبریٰ: غیبت کبریٰ کا زمانہ ۳۲۹ھء سے شروع ھوا اور جب تک خدا تعالیٰ چاھے گا یہ غیبت جاری رھے گی۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک حدیث شریف میں فرماتے ھیں (جس پر تمام اسلامی فرقوں کو اتفاق ھے):

”اگر دنیا کی زندگی ایک دن بھی باقی رھتی ھوگی تو بھی خداوند تعالیٰ اس دن کو اس قدر لمباکردے گا کہ امام مھدی (علیہ السلام) جو میرے بیٹے ھیں تشریف لائیں گے اور اس دنیا کو عدل و انصاف سے مال مال کردیں گے، اگر چہ یہ دنیا ظلم و ستم سے بھری ھوئی کیوں نہ ھو۔

 

امام مھدی علیہ السلام کا ظھور  (عام عقیدے کے مطابق)

ھم نے نبوت اور امامت کی بحث میں اشارہ کیا ھے کہ عام ھدایت کے قانون کے مطابق جو ھر قسم کی آفرینش اور کائنات میں جاری و ساری ھے، بنی نوع انسان ضرورت کے لحاظ سے ایک ایسی طاقت رکھتے ھیں (وحی و نبوت کی طاقت) جو ان کو کمال انسانیت اور سعادت کی طرف رھنمائی کرتی ھے۔ ظاھر ھے کہ اگر یہ کمال و ترقی اور سعادت انسان کے لئے امکان پذیر اور قابل وقوع نہ ھو تو اس کی طاقت اور قوت منسوخ اور باطل ھو جائے گی، لیکن آفرینش اور فطرت میں منسوخی یا ابطال موجود ھی نھیں ھے نیزجب سے انسان اس دنیا میں سکونت اور قیام پذیر ھے، اسی دن سے اس کو ھمیشہ ایک ایسی اجتماعی زندگی کی آرزو اور خواھش رھی ھے جو حقیقی سعادت اور خوشحالی پر مبنی ھو اور اس سعادت تک پھنچنے کے لئے لگاتار کوشش میں مصروف ھے۔ اگر یہ آرزو اور خواھش یا امید پوری ھونی محال ھوتی یا اس کا کوئی بیرونی وجود نہ ھوتا تو ھرگز انسان کے دل میں ایسی خواھش یا امید پیدا ھی نہ ھوتی۔ اور اگر عضو تناسل نہ ھوتا تو جنسی یا نفسانی خواھش بھی پیدا نہ ھوتی۔

اس لحاظ سے ضرورت (جبر) کے مطابق اس دنیا کے مستقبل میں بھی وہ دن ضرور آئے گا، جس دن اس کی یہ آرزو پوری ھو جائے گی اور انسانی معاشرہ عدل و انصاف سے بھر جائے گا اور تمام بنی نوع انسان آپس میں پیار، محبت اور صلح و صفا سے زندگی بسر کریں گے اور اس دن ھر شخص فضیلت کے انتھا ئی درجے پر پھنچ جائیگا ۔

البتہ ایسی حالت کا پیدا ھونا بھی خود انسان کے ھاتھ میں ھوگا ،پھر ایسے معاشرے کا رھنما اور رھبر انسانی دنیا کا نجات دھندہ اور دوسرے الفاظ میں ”امام مھدی(ع)“ ھوگا ۔

دنیا کے مختلف مذاھب مثلاً ثنویّت، یھودیت، مجوسیت اور اسلام وغیرہ سب میں ایسے شخص کے بارے میں اشارے ملتے ھیں جو دنیا کو نجات دلائے گا اور ان تمام مذاھب میں اس شخص کی خوشخبری دی گئی ھے۔ اگر چہ ایسے شخص کے بارے میں اختلاف نظر موجود ھے کہ وہ کون ھوگا، لیکن اسلام میں پیغمبر اکرم کی متفق علیہ احادیث میں وہ شخص: المھدی من ولدی“ یعنی مھدی موعود(ع) میری اولاد (نسل) میں سے ھوگا، اس کی طرف اشارہ ھے۔

امام مھدی(ع) کے ظھور کے بارے میں بحث (خاص عقیدے کے مطابق)

ان بے شمار احادیث کے علاوہ جو پیغمبر اکرم اور ائمہ اھل بیت(ع) سے خاص و عام ذرائع سے امام مھدی(ع) کے ظھور کے بارے میں ھم تک پھنچی ھیں کہ آپ پیغمبر اکرم کی نسل اور اولاد سے ھوں گے اور انسانی معاشرے کو حقیقی کمال و خوش بختی تک پھنچائیں گے اور اس معاشرے کو ایک معنوی زندگی عطا فرمائیں گے۔ بھت زیادہ دوسری احادیث و روایات بھی موجود ھیں جن سے پتاچلتا ھے کہ حضرت امام مھدی(ع)، حضرت امام حسن عسکری(ع) (گیارھویں امام(ع)) کے حقیقی فرزند ھیں۔ جو پیدا ھوئے ھیں لیکن غیبت کبریٰ کے بعد ظاھر ھوں گے اور اس دنیا کو عدل و انصاف سے مالامال کردیں گے کیونکہ اس وقت یہ دنیا ظلم وجور سے بھری ھوئی ھوگی۔