www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

0137
اس كے بعد آپ نے اپنى دعوت كى حقانيت كے لئے معجزے اور نشانى كى نشاندہى كى ،ايسى نشانى جو انسانى قدرت سے ماورا ہے اور صرف قدرت الہى كے سہارے پيش كى گئي ہے ان سے كہا :''اے ميرى قوم : يہ ناقہ الہى تمہارے لئے آيت اور نشانى ہے ''اسے چھوڑدو كہ يہ بيابانوں چراگاہوں ميں گھاس پھوس كھائے''، ''اوراسے ہر گز كوئي تكليف نہ پہنچانا اگر ايسا كروگے تو فورا تمہيں درناك عذاب الہى گھيرلے گا ''۔( سورہ ھود ،آيت 64﴾
لغت ميں '' ناقة'' اونٹنى كے معنى ميں ہے _ يہاں قرآن اور ميں يہاں اور قران كى بعض ديگر آيات ميں اس كى اضافت خدا كى طرف سے كى گئي ہے يہ امر نشاندہى كرتاہے كہ يہ اونٹنى كچھ خصوصيات ركھتى تھي اس طرف توجہ كرتے ہوئے كہ يہاں پر اس كا ذكر آيت الہى اور دليل حقانيت كے طور پر آيا ہے، واضح ہوجاتاہے كہ يہ اونٹنى ايك عام اونٹنى نہ تھى اور ايك حوالے سے يا كئي حوالوں سے معجزہ كے طور پر تھى ليكن قرآن ميں يہ مسئلہ تفصيل كے ساتھ نہيں آيا كہ اس ناقہ كى خصوصيات كيا تھيں اس قدر معلوم ہوتا ہے كہ يہ كوئي عام اونٹنى نہ تھى _ بس يہى ايك چيز قرآن ميں دو مواقع پر موجود ہے كہ حضرت صالح(ع) نے اس ناقہ كے بارے ميں اپنى قوم كو بتايا كہ اس علاقے ميں پانى كى تقسيم ہونا چاہئے ايك دن پانى ناقہ كا حصہ ہے اور ايك دن لوگوں كا''۔( ھذہ ناقة لھا شرب ولكم شرب يوم معلوم ) (سورہء شعراء آيت155﴾نيز سورہ قمر كى آيت 28 ميں ہے: ( ونبئھم ان الماء قسمة بينھم كل شرب محتضر) سورہ شمس ميں بھى اس امر كى طرف اشارہ موجود ہے : (فقال لھم رسول الله ناقة اللہ وسقياھا) (سورہ شمس آيت 13﴾
ليكن يہ بات پورى طرح مشخص نہيں ہوسكى كہ پانى كى يہ تقسيم كس طرح خارق العادت تھى ايك احتمال يہ ہے كہ وہ اوٹنى بہت زيادہ پانى پيتى تھى اس طرح چشمہ كا تمام پانى اس كے لئے مخصوص ہوجاتا دوسرا احتمال يہ ہے كہ جس وقت وہ پانى پينے كے لئے آتى تو دوسر ے جانورپانى پينے كى جگہ پر آنے كى جرا ت نہ كرتے ۔
ايك سوال يہ ہے كہ يہ جانور تمام پانى سے كس طرح استفادہ كرتا تھا اس سلسلے ميں يہ احتمال ہے كہ اس بستى كا پانى كم مقدار ميں ہو جيسے بعض بستيوں ميں ايك ہى چھوٹا سا چشمہ ہوتا ہے اور بستى والے مجبور ہوتے ہيں كہ دن بھر كا پانى ايك گڑھے ميںا كٹھاكريں تاكہ كچھ مقدار جمع ہوجائے اور اسے استعمال كيا جاسكے ۔
ليكن دوسرى طرف قران كى بعض آيات سے معلوم ہوتا ہے كہ'' قوم ثمود تھوڑے پانى والے علاقے ميں زندگى بسر نہيں كرتى تھى بلكہ وہ لوگ تو باغوں ، چشموں ،كھيتوں اور نخلستان كے مالك تھے''_ (سورہ شعراء آيت 146، تا 148﴾
بہرحال جيسا كہ ہم نے كہا ہے كہ ناقہ صالح كے بارے ميں اس مسئلہ پر قرآن نے اجمالا ذكر كياہے ليكن بعض روايات جو شيعہ اور سنى دونوں فريقوں كے يہاں نقل ہوئي ہيں ان ميں بيان ہوا ہے كہ اس ناقہ كے عجائب خلقت ميں سے يہ تھا كہ وہ پہاڑكے اندر سے با ہر نكلي اس كے بارے ميں كچھ اور خصوصيات بھى منقول ہيں ۔
بہر كيف حضرت صالح جيسے عظيم نبى نے اس ناقہ كے بارے ميں بہت سمجھايا بجھايا مگر انہوں نے آخركار ناقہ كو ختم كردينے كا مصمم ارادہ كرليا كيونكہ اس كى خارق عادت اور غير معمولى خصوصيات كى وجہ سے لوگوں ميں بيدارى پيدا ہورہى تھى اور وہ حضرت صالح كى طرف مائل ہورہے تھے لہذا قوم ثمود كے كچھ سركشوں نے جو حضرت صالح كى دعوت كے اثرات كو اپنے مفادات كے خلاف سمجھتے تھے اور وہ ہرگز لوگوں كى بيدارى نہيں چاہتے تھے كيونكہ خلق خدا كى بيدارى سے ان كے استعمارى مفادات كو نقصان پہنچتا،لہذا انھوں نے ناقہ كو ختم كرنے كى سازش تيار كى كچھ افراد كو اس كام پر مامور كيا گيا آخر كار ان ميں سے ايك نے ناقہ پر حملہ كيا اور اس پر ايك يا كئي وار كئے '' اور اسے مار ڈالا''۔ (سورہ اعراف، آيت 77﴾

Add comment


Security code
Refresh