www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

مذھب تشیع کی بنیاد دو حدیثوں پر قائم ہے: ایک حدیث ثقلین (۱) کہ جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے

 نوے دن کے اندر چار مقام پر بیان فرمائی۔

دوسری حدیث غدیر کہ جسے در واقع پھلی حدیث کو مکمل کرنے والی کھا جا سکتا ہے جو پیغمبر اسلام(ص) نے غدیر خم کے میدان میں حجۃ الوداع سے واپسی پر سوا لاکھ کے مجمع میں ارشاد فرمائی۔
قرآن اور عترت کے سلسلے میں حد سے زیادہ پیغمبر اسلام (ص)کی سفارش اور امیر المومنین علی علیہ السلام کی جانشینی اور خلافت پر آپ کا اصرار یہ بتا رھا ہے کہ یہ ایسی حقیقت ہے جس کی پیغمبر اسلام (ص) کو بھت زیادہ نگرانی تھی کہ آپ کے بعد امت اسلامی کو جس کا سامنا کرنا پڑے گا۔
غدیر خم کو اھمیت دینا، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رسالت کو اھمیت دینا ہے۔ ھم اس مقالہ میں غدیر کی اھمیت کو خود صاحبان غدیر یعنی آئمہ معصومین علیھم السلام کی نگاہ سے بیان کرتے ہیں:
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور غدیر
شیخ صدوق نے کتاب " امالی" میں امام باقر علیہ السلام اور آپ نے اپنے جد بزرگوار سے نقل کیا ہے کہ ایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: اے علی خداوند عالم نے آیت "یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک" (۲)کو تمھاری ولایت کے بارے میں نازل کیا ہے۔ اگر اس ولایت کو کہ جس خدا نے مجھے امر کیا نہ پھنچاتا تو میری رسالت باطل ھو جاتی۔ اور جو شخص خدا کو تمھاری ولایت کے بغیر ملاقات کرے اس کا کردار باطل ہے۔ اے علی میں وحی خدا کے علاوہ بات نھیں کرتا۔(۳)
امام علی علیہ السلام اور حدیث غدیر
سلیم بن قیس ہلالی امیر المومنین (۴) کی ابوبکر کے ساتھ کے بیعت کی طرف اشارہ کرتے ھوئے کھتے ہیں:
"ثم اقبل عليهم على‏فقال: يا معشرالمسلمين و المهاجرين و الانصار انشد كم الله اسمعتم رسول الله يقول يوم غديرخم كذا و كذا فلم يدع شيئا قال عنه رسول الله الا ذكرهم اياه قالوا نعم"
پھر علی علیہ السلام نے لوگوں سے کھا: اے مسلمانو اور مھاجرین و انصار، کیا تم لوگوں نے نھیں سنا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے غدیر کے دن کیا فرمایا؟ اس کے بعد ان تمام باتوں کو جو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے غدیر کے دن فرمائیں تھیں یاد دھانی کروایا۔ سب نے اقرار کیا کہ ھاں یہ سب کھا تھا۔
اس سلسلے میں امیر المومنین کے استدلالات کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے منجملہ وہ استدلال جو آپ نے ابوبکر کے لیے کیا تھا کہ فرمایا: حدیث غدیر کی بنیاد پر آیا میں تمھارا اور مسلمانوں کا مولا ھوں یا تم؟ ابوبکر نے کھا: آپ۔(۵)
ابی الطفیل کا کہنا ہےکہ جس دن عمر نے شوریٰ کو دعوت دی میں گھر پر تھا میں نے سنا کہ علی علیہ السلام نے کھا: کیا میرے علاوہ کوئی اور تمھارے درمیان ہے جس کے بارے میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ھو:" من کنت مولاہ فھذا مولاہ اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ" سب نے کھا : نھیں کوئی نھیں ہے۔(۶)
حضرت زھرا سلام اللہ علیھا اور غدیر
ابن عقدہ نے اپنی کتاب "الولایۃ" میں محمد بن اسید سے یوں نقل کیا ہے: فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا سے پوچھا: کیا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی رحلت سے پھلے علی علیہ السلام کی امامت کے بارے میں کچھ فرمایا:
جناب زھراسلام اللہ علیھانے جواب دیا: "و اعجباانسيتم يوم غديرخم؛" (۷) بھت تعجب ہے! کیا تم لوگوں نے غدیر خم کو فراموش کر دیا ہے؟
فاطمہ بنت الرضا انھوں نے فاطمہ بنت الکاظم علیہ السلام انھوں نے فاطمہ بنت الصادق علیھن السلام سے یوں نقل کیا ہے کہ ام کلثوم دختر فاطمہ زھراسلام اللہ علیھا نے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے غدیر کے دن فرمایا: " من کنت مولاہ فعلی مولاہ"(۸)
امام حسن مجتبی علیہ السلام اور غدیر
امام جعفرصادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ جب امام حسن علیہ السلام نے معاویہ سے صلح کرنا چاھی تو اس سے فرمایا: مسلمانوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا ہے کہ آپ نے میرے بابا کے بارے میں فرمایا: " انہ منی بمنزلۃ ھارون من موسی" اسی طرح انھوں نے دیکھا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بابا کو غدیر خم میں امام کے عنوان سے منصوب کیا ہے۔(۹)
امام حسین علیہ السلام اور غدیر
سلیم بن قیس لکھتے ہیں: امام حسین علیہ السلام معاویہ کی موت سے پھلے خانہ کعبہ کی زیارت کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ نے بنی ھاشم کو جمع کیا اور فرمایا: کیا جانتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے امیر المومنین علی علیہ السلام کو غدیر خم کے دن منصوب کیا؟ سب نے کھا: ھاں ، (اے فرزند رسول)۔(۱۰)
امام زین العابدین علیہ السلام اور غدیر
ابن اسحاق، مشھور تاریخ نگار، کا کھنا ہے: علی بن حسین سے کھو: " من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ" کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: " اخبر ھم انہ الامام بعدہ"۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے لوگوں کو یہ خبر دی کہ ان کے بعد علی علیہ السلام امت کے امام ہیں۔ (۱۱)
امام باقر علیہ السلام اور غدیر
ابان بن تغلب کا کھنا ہے: امام باقر علیہ السلام سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس قول: " من کنت مولاہ فعلی مولاہ" کے بارے میں سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: اے ابو سعید پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: امیر المومنین لوگوں کے درمیان میرے جانشین ھوں گے۔(۱۲)
امام صادق علیہ السلام اور غدیر
زید شحام کا کھنا ہے: میں امام صادق علیہ السلام کے پاس تھا، مکتب معتزلہ کے ایک آدمی نے آپ سے سنت کے بارے میں سوال کیا۔ آپ نے جواب دیا: ھر وہ چیز جس کی انسان کو ضرورت ہے اس کا حکم خدا اور اس کے پیغمبر کی سنت میں موجود ہے۔ اگر سنت نہ ھوتی خدا وند عالم کبھی بھی اپنے بندوں پر حجت تمام نہ کرتا۔
اس آدمی نے پوچھا: خداوند عالم نے کس چیز کے ذریعے ھمارے اوپر حجت تمام کی ہے؟
آپ نے فرمایا: "اليوم اكملت لكم دينكم و اتممت عليكم نعمتى و رضيت لكم الاسلام دينا"؛ اس نے اس طریقے سے ولایت کو مکمل کیا اس سنت کے ذریعے اس نے حجت کو تمام کیا ہے۔ (۱۳)
امام موسی کاظم علیہ السلام اور غدیر
عبد الرحمن بن حجاج نے حضرت موسی بن جعفر علیھما السلام سے غدیر خم کی مسجد میں نماز (۱۴)کے بارے میں سوال کیا : آپ نے جواب میں فرمایا: "صل فيه فان فيه فضلا و قد كان ابى يامربذلك" (۱۵) اس میں نماز پڑھو اس لیے کہ اس میں نماز پڑھنے کی بھت فضیلت ہے اور بتحقیق میرے بابا نے اس امر کے لیے حکم کیا ہے۔
امام رضا علیہ السلام اور غدیر
محمد بن ابی نصر بزنطی کھتے ہیں: امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ھوا اس حال میں کہ مجلس لوگوں سے بھری تھی۔ اور آپس میں غدیر کے بارے میں گفتگو کر رھے تھے۔ بعض لوگ اس واقعہ کا انکار کر رھے تھے امام علیہ السلام نے فرمایا: میرے والد نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ روز غدیر آسمان والوں کے ھاں زمین والوں سے زیادہ مشھور اور مقبول ہے۔ اس کے بعد فرمایا: اے ابی بصیر، " این ما کنت فاحضر یوم الغدیر" جھاں بھی رھوں غدیر کے دن امیر المومنین علہ السلام کے پاس جانا۔ یقینا اس دن خداوند عالم مسلمان مرد و زن کے ساٹھ سال کے گناھوں کو معاف کر دیتا ہے اور دوبرابر زیادہ لوگوں کو ماہ رمضان کی نسبت ،جھنم کی آگ سے نجات دلاتا ہے۔ ۔۔۔۔ اس کے بعد فرمایا: "والله لوعرف الناس فضل هذا اليوم بحقيقه لصافحتهم الملائكه كل يوم عشر مرات" (۱۶) اگر لوگ اس دن کی قد و قیمت کو جان لیتے تو بغیر شک کے ھر روز دس بار فرشتے ان سے مصافحہ کرتے۔
امام محمد تقی علیہ السلام اور غدیر
ابن ابی عمیر نے ابو جعفر ثانی علیہ السلام سے اس آیت "یا ایھا الذین آمنوا اوفوا بالعقود" (۱۷) کے ذیل میں یوں نقل کیا: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دس جگھوں پر اپنی خلافت کی طرف اشارہ کیا اس کے بعد آیت "یا ایھا الذین آمنوا اوفوا بالعقود" نازل ھوئی۔ (۱۸)
اس روایت کی وضاحت میں یوں کھنا چاھیے۔ مذکورہ آیت سورہ مائدہ کے شروع میں ہے۔ یہ سورہ آخری سورہ ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ھوا ہے۔ اس سورہ میں آیت اکمال اور آیت تبلیغ ہیں کہ جو واقعہ غدیر کی طرف اشارہ کر رھی ہیں۔
امام علی نقی علیہ السلام اور غدیر
شیخ مفید نے کتاب ارشاد میں امیر المومنین علی علیہ السلام کی زیارت کو امام حسن عسکری علیہ السلام اور آپ نے امام ھادی علیہ السلام سے نقل کرتے ھوئے یوں بیان کیا ہےکہ امام جواد علیہ السلام نے غدیر کے دن حضرت علی علیہ السلام کی زیارت کی اور فرمایا: "اشهد انك المخصوص بمدحةالله المخلص لطاعةالله ..."؛ گواھی دیتا ھوں کہ خدا کی مدح و ثنا آپ سے مخصوص ہے اور آپ اس کی اطاعت میں مخلص ہیں۔
اس کے بعد فرمایا: خداوند عالم نے حکم دیا: "يا ايهاالرسول بلغ ما انزل اليك من ربك و ان لم تفعل فمابلغت رسالته و الله يعصمك من الناس."
اس کے بعد فرمایا: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے لوگوں کو خطاب کیا اور ان سے پوچھا: کیا میں نے جو کچھ میرے ذمہ تھا تم لوگوں تک نھیں پھنچایا؟
سب نے کھا: پھنچا دیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
اس کے بعد فرمایا: خدا گواہ رھنا۔ اس بعد فرمایا: : "الست اولى بالمومنين من انفسهم؟ فقالوا بلى فاخذ بيدك و قال من كنت مولاه فهذا على مولاه، اللهم وال من والاه و عاد من عاداه و انصر من نصره و اخذل من خذله؛" کیا میں مومنین پر ان کے نفوس سے زیادہ حق نھیں رکھتا ھوں؟ سب نے کھا: ھاں، یا رسول اللہ آپ رکھتےہیں۔ اس کے بعد علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: جس کا میں مولا ھوں اس کے علی مولا ہیں۔۔۔۔۔۔(۱۹)
امام حسن عسکری علیہ السلام اور غدیر
حسن بن ظریف نے امام حسن عسکری علیہ السلام کو خط لکھا اور پوچھا: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس قول " من کنت مولاہ فعلی مولاہ" کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے جواب میں فرمایا: "اراد بذلك ان جعله علما يعرف به حزب الله عند الفرقة"؛ خدا وند عالم نے ارادہ کیا کہ یہ جملہ علامت اور پرچم قرار پائے تاکہ اللہ کا گروہ اختلاف کے وقت اس کے ذریعے پھچانا جائے۔
اسحاق بن اسماعیل نیشاپوری کھتے ہیں: حضرت حسن بن علی علیھما السلام نے ابراھیم سے یوں کھا: خداوند عالم نے اپنی رحمت اور احسان کے طفیل واجبات کو تمھارے اوپر مقرر کیا یہ کام اس کی ضرورت کی وجہ سے نھیں تھا بلکہ اس کی رحمت کا تقاضا تھا جو تمھارے شامل حال ھوئی۔ اس کے سوا کوئی معبود نھیں ہے۔ اس نے ایسا کیا تا کہ ناپاک و پاک لوگوں سے جدا کرے اور تمھارے باطن کو پرکھے تاکہ اس کی رحمت تمھارے شامل حال ھو اور بھشت میں تمھارا مقام معین ھو۔
اسی وجہ سے حج، عمرہ، نماز کی ادائیگی ، زکات، روزہ اور ولایت کو تمھارے اوپر چھوڑا اور تمھارے راستے میں ایک دروازہ رکھا تاکہ اس کے ذریعے دوسرے واجبات کے دورازوں کو اپنے اوپر کھول سکو۔ اس دروازے کو کھولنے کے لیے ایک چابی رکھی ہے (اور ہے محمد اور آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ۔ اگر محمد اور آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نہ ھوتے تم لوگ حیوانوں کی طرح سرگرداں گھومتے رھتے۔ اور کسی بھی فریضہ کی ادائیگی نہ کر پاتے۔ مگر گھر میں دروازے کے علاوہ انسان داخل ھو سکتا ہے؟ جب خداوند عالم نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اپنے اولیاء کو معین کر کے اپنی حجت تمھارے اوپر تمام کر دی تو فرمایا: "اليوم اكملت لكم دينكم و اتممت عليكم نعمتى و رضيت لكم الاسلام دينا" (۲۰) کہ آج میں نے دین کو تمھارے اوپر کامل کر دیا اور نعمت کو تمام کر دیا اور اسلام سے راضی ھو گیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے اولیاء کے کچھ حقوق تمھاری گردنوں پر رکھے اور تمھیں حکم دیا کہ ان کے حقوق کو ادا کرو تاکہ تمھاری عورتیں، مال و دولت، خوراک و پوشاک تمھارے اوپر حلال ھو۔ اور اس کے ذریعے برکت اور ثروت کو پھچنوائے اور تم میں سے اطاعت کرنے والوں کو غیبت کے ذریعے پھچنوائے۔(۲۱)
امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اور غدیر
دعائے ندبہ میں جو بظاھر آپ سے منسوب ہے وارد ھوا ہے:" فلما انقضت ایامہ اقام ولیہ علی بن ابی طالب صلواتک علیھما و آلھما ھادیا اذ کان ھو المنذر و کل قوم ھاد فقال و الملاء امامہ من کنت مولاہ فعلی مولاہ۔۔۔"

حوالہ جات:

۱ـ حديث ثقلين اھلسنت کے اکثر منابع میں ذکر ھوئی ہے ھم یھاں پر صرف چند ایک طرف اشارہ کرتے ہیں: السنه شيبانى، ص ۳۳۷ و ۶۲۹ ح ۱۵۵۱؛ صحيح ترمذى، ج ۵، ص ۶۶۳؛ سنن كبرى بيهقى، ج ۱۰، ص ۱۱۴؛ المستدرك، حاكم نيشابورى، ج ۳، ص ۱۱۰؛ فضائل الصحابه، احمد بن حنبل، ج ۱، ص ۱۷۱ و ج ۲، ص ۵۸۸؛ سنن ابى‏داود، ج ۲، ص ۱۸۵؛ طبقات كبرى، ابن سعد، ج ۲، ص ۱۹۴؛صحيح مسلم، ج ۴، ص .۱۸۷۳۔
۲ ـ سوره مائده، آيه .۷۱۔
۳۔ امالى شيخ صدوق، مجلس، ص۷۴۔
۴۔ كتاب سليم بن قيس هلالى، نشر موسسه بعثت، ص .۴۱۔
۵۔امالى شيخ صدوق، ج ۱، ص .۳۴۲۔
۶۔
۷۔ اثبات الهداة، ج ۲، ص ۱۱۲؛ احقاق الحق، ج ۱۶، ص .۲۸۲۔
۸۔ امالى شيخ صدوق، ج ۲، ص .۱۷۱۔
۹۔ امالى شيخ صدوق، ج ۲، ص .۱۷۱۔
۱۰۔ سليم بن قيس، ص .۱۶۸۔
۱۱۔ معانى الاخبار، ص ۶۵؛ بحارالانوار، ج ۳۷، ص .۲۲۳۔
۱۲۔ معانى الاخبار، ص .۶۶۔
۱۳۔ تفسير برهان، ج ۱، ص .۴۴۶۔
۱۴۔ اس مسجد کی اھمیت کو جاننے کے لیے مجله ميقات حج شماره ۱۲ کی طرف رجوع کیا جائے۔
۱۵۔ اصول كافى، ج ۴، ص .۵۶۶۔
۱۶۔ تهذيب الاحكام، شيخ طوسى، ج ۶، ص ۲۴، ح ۵۲؛ مناقب ابن شهرآشوب، ج ۳، ص .۴۱۔
۱۷۔ سوره مائده، آيه .۱۔
۱۸۔ تفسيرقمى، ج ۱، ص .۱۶۰۔
۱۹۔ بحارالانوار، ج ۱۰۰، ص .۳۶۳۔
۲۰۔ وھی، ج ۳۷، ص .۲۲۳۔
۲۱۔ علل الشرائع، ج ۱، ص ۲۴۹، باب ۱۸۲، ح .۶۶۔
 

Add comment


Security code
Refresh