www.Ishraaq.in (The world wide of Islamic philosophy and sciences)

وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا

470885
انسان کی زندگی راحت و تکلیف سے عبارت ھے ۔ ان میں سے ھر ایک انسان کی کوتاہ و محدود زندگی پر سایہ فگن ھے ھر شخص اپنے مقسوم کے مطابق ان دونوں سے دو چار ھوتا ھے اور اسی تلخ حقیقت کے مطابق انسان راحت و الم کے درمیان اپنی پوری زندگی گزار دیتا ھے ۔
یہ تو ھمارے امکان سے باھر کی بات ھے کہ اس ناموس ابدی میں کوئی تغیر کر دیں اور اپنی مرضی کے سانچہ میں اس کو ڈھال لیں ۔ لیکن یہ بھرحال ممکن ھے کہ زندگی کی حقیقت کو جان لینے کے بعد اس زندگی کے خوبصورت موجودات کی طرف اپنی نظروں کو موڑ دیں اور اس کے بد شکل موجودات کی طرف سے اپنی نظروں کو ھٹا لیں ۔ یا اس کے بر عکس اشیاء کے روشن و درخشندہ پھلوؤں کو بھول کر ان کے سیاہ و تیرہ و تار پھلوؤں کی طرف متوجہ ھو جائیں ۔ مختصر لفظوں میں یوں سمجھئے کہ ھر شخص کے پاس اتنی قدرت ھے کہ اپنی فکر کو ان دونوں میں سے کسی ایک طرف مرکوز کر دے ۔ اور اپنی دنیا کو اسی رنگ میں رنگ لے جس کی طرف اس کا میلان ھے ۔
ھمارے لئے یہ بھی ضروری ھے کہ ایسی نا ملائم چیزیں جو زندگی کے لئے سدّ راہ بنتی ھوں ان سے مقابلہ کرنے کے لئے اپنی برد باری کو محفوظ کر لیں ۔ ورنہ پھر ھم ایسی خسارتوں سے دو چار ھوں گے جن کا جبران ممکن نہ ھو گا ۔ اور یہ بھی ھو سکتا ھے کہ حادثات کے مقابلہ میں ھم سر نگوں ھو جائیں ۔
بعض لوگوں کا خیال ھے کہ اگر زندگی کے حادثات اس طرح نہ ھوتے جیسے کہ ھیں تو ھم سب سعید و نیک بخت ھوتے لیکن یہ تصور غلط ھے کیونکہ ھماری بد بختیوں کا ڈنڈا حادثات زندگی سے نھیں ملتا ۔ بلکہ ھماری شقاوت و بد بختی کا دار مدار حادثات سے کس طرح نمٹنے پر موقوف ھے کیونکہ یہ ممکن ھے کہ عوامل خارجی کے اثرات کو انسان اپنے دل و جان اوراپنی روح کی طاقت سے بدل دے اور اس طرح کسب توفیق کر لے ۔
ایک مشھور رائٹر لکھتا ھے : ھمارے افکار کا دار مدار نا راضگی پر ھے ۔ ھم چاھے جس حالت میں ھوں چاھے جس صورت میں ھوں ناراض رھتے ھیں ۔ اور شکوہ بر لب رھتے ھیں ۔ یہ گریہ و رازی شکوہ و شکایت ھمارے خمیر میں ھے ۔ انسانی وجود کی تخلیق کچھ اس طرح ھوئی ھے کہ ھمیشہ روحانی و جسمانی نا مناسب چیزوں سے رنج و عذاب میں گرفتار رھتا ھے ھر روز ایک نئی آرزو کا اسیر رھتا ھے ۔ بلکہ بسا اوقات تو اس کو یہ بھی نھیں معلوم ھوتا کہ کیا چاھتا ھے ؟ اور کس چیز کی تمنا رکھتا ھے انسان خیال کرتا ھے کہ خوش بختی تو دوسروں کے پاس ھے ( میں تو بھت ھی بد بخت ھوں ) لھذا ان سے رشک کرتا ھے اور اپنے کو تکلیف میں مبتلا کرتا ھے ۔ انسانی وجود ایک ایسے بچہ کے مانند ھے جو ھمیشہ سوز و گذار میں مبتلا رھتے ھیں ۔ ھماری آزادی و آسائش صرف اسی صورت میں ممکن ھے جب اس بچہ کو حقیقت کے دیکھنے پر آمادہ کریں ۔ اور اس قسم کی بیھودہ خواھشات سے اس کو روک دیں ۔ اس بچہ کی آنکھیں جو بے حساب خواھشات کی وجہ سے برائی کے علاوہ کچھ بھی نھیں دیکہ پاتیں انکو اچھائیوں کے دیکھنے پرمجبور کریں ۔ اس بچہ کو یہ سمجھ لینا چاھئے کہ اس باغ زندگی میں ھر آنکہ والا اپنے دامن کو پھولوں سے بھر لیتا ھے اور اندھا سوائے کانٹوں کے کچھ بھی نھیں حاصل کر پاتا ۔ اگر ھم اپنی کم حوصلگی و بد گمانی ھی کے راستہ پر نہ چلیں اور نگاہ تحقیق سے دیکھیں تو ھم کو معلوم ھو گا کہ ھر زمانہ اور ھر عھد میں بلکہ اس زمانہ میں بھی جب کہ دنیا ھولناک گرداب میں پھنس چکی ھے اور ھماری زندگی ھر وقت زیر و زبر رھتی ھے اور ھر وقت اچھائی و برائی سے دو چار ھونا پڑتا ھے ھم باغ زندگی میں ھر جگہ گلھائے زیبا کو چشم بینا سے دیکہ سکتے ھیں ۔
انسان کی سعادت و نیک بختی میں اس کے افکار کو کافی دخل ھے بلکہ انسانی سعادت کا اکیلا موٴثر صرف اس کی عقل اور فکر ھے ۔بد گمان شخص کی نظر میں غیر معمولی حادثہ بھت ھی عظیم ھوتا ھے اس کی کمر کو توڑ دیتا ھے بد گمان شخص اس کو برداشت نھیں کر پاتا ۔ لیکن حسن ظن رکھنے والا شخص جو صرف زندگی کے روشن پھلوؤں کو دیکھنے کا عادی ھے اور بدی کی جگہ ھمیشہ نیکی پر عقیدہ رکھتا ھے وہ ان مصائب و آلام کے مقابلہ میں جن سے زندگی میں اجتناب ممکن نھیں ھے سر تسلیم خم کر دیتا ھے ۔ انتھا یہ ھے کہ دشوار ترین مصائب کے وقت بھی وہ مقاومت کرتا ھے اور متانت و برد باری کے راستہ سے خارج نھیں ھوتا ۔
جو لوگ یہ خیال کرتے ھیں کہ ان ھی کی ذات بد بختی کا محور ھے وہ اپنی زندگی شکنجوں سے بھری ھوئی اور تاریک گزارتے ھیں ۔ اور ضرورت سے زیادہ حساسیت کی بنا پر مصائب و آلام کے مقابلہ میں اپنی طاقت کو بیکار خرچ کر کے تباہ کر دیتے ھیں ۔ اور دنیا کی ان نعمتوں اور برکتوں سے جو لوگوں کا احاطہ کئے ھوئے ھیں بے خبر و غافل رھتے ھیں ۔
ایک دانشمند کھتا ھے : دنیا لوگوں کے داتھ وھی برتاؤ کرتی ھے جو لوگ اس کے داتھ کرتے ھیں وہ بالکل برابر کا معاملہ کرتی ھے اگر آپ اس کے سامنے ھنسیں گے تو وہ بھی ھنسے گی ۔ اور اگر آپ اس کے سامنے چیں بہ جبیں ھونگے تو وہ بھی ترش روئی سے پیش آئے گی ۔ اگر آپ فکر کریں گے تو وہ آپ کو مفکرین کی فھرست میں شامل کر دیگی ۔ اگر آپ سچے و رحم دل ھوں گے تو آپ اپنے ارد گرد ایسے لوگوں کو دیکھیں گے جو آپ سے خلوص رکھتے ھونگے آپ سے محبت کرتے ھونگے ۔ آلام و مصائب بظاھر چاھے جتنے تلخ و ناگوار ھوں لیکن روح کو اپنے مخصوص ثمرات دیتے رھتے ھیں ۔ کیونکہ روحانی طاقتیں آلام کی گھٹا ٹوپ تاریکی میں مزید روشن و متجلی ھوتی ھیں ۔ اور انھیں دار و گیر ، مصائب و آلام فدا کاری و قربانی کے مراحل سے گزرتی ھوئی انسانی کمالات کی چوٹی پر پھونچ جاتی ھیں ۔

Add comment


Security code
Refresh